حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 575 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 575

حیات احمد ۵۷۵ جلد دوم حصہ سوم سخت سخت تاریکیاں آئیں اور بڑے بڑے زلزلے اُن پر وارد ہوئے اور وہ ذلیل کئے گئے۔اور جھوٹوں اور مکاروں اور بے عزتوں میں شمار کئے گئے اور اکیلے اور تنہا چھوڑے گئے یہاں تک کہ ربانی مردوں نے بھی جن کا ان کو بڑا بھروسا تھا کچھ مدت تک منہ چھپا لیا اور خدا تعالیٰ نے اپنی مربیانہ عادت کو بہ یکبارگی کچھ ایسا بدل دیا کہ جیسے کوئی سخت ناراض ہوتا ہے۔اور ایسا انہیں تنگی و تکلیف میں چھوڑ دیا کہ گویا وہ سخت مورد غضب ہیں اور اپنے تئیں ایسا خشک سا دکھلایا کہ گویاوہ اُن پر ذرا مہربان نہیں بلکہ ان کے دشمنوں پر مہربان ہے۔اور ان کے ابتلاؤں کا سلسلہ بہت طول کھینچ گیا۔ایک کے ختم ہونے پر دوسرا اور دوسرے کے ختم ہونے پر تیسرا ابتلا نازل ہوا۔غرض جیسے بارش سخت تاریک رات میں نہایت شدت و سختی سے نازل ہوتی ہے۔ایسا ہی آزمائشوں کی بارشیں اُن پر ہوئیں پر وہ اپنے پکے اور مضبوط ارادہ سے باز نہ آئے اور سُست اور دل شکستہ نہ ہوئے بلکہ جتنا مصائب و شدائد کا باران پر پڑتا گیا اتنا ہی انہوں نے آگے قدم بڑھایا۔اور جس قدر وہ توڑے گئے اُسی قدر وہ مضبوط ہوتے گئے اور جس قدر انہیں مشکلات راہ کا خوف دلایا گیا ان کی ہمت بلند اُن کی شجاعت ذاتی جوش میں آتی گئی بالآخر وہ اُن تمام امتحانات سے اول درجہ کے پاس یافتہ ہو کر نکلے۔اور اپنے کامل صدق کی برکت سے پورے طور پر کامیاب ہو گئے اور عزت اور حرمت کا تاج اُن کے سر پر رکھا گیا اور تمام اعتراضات نادانوں کے ایسے حباب کی طرح معدوم ہو گئے کہ گویا وہ بقیہ حاشیہ۔(دیکھو زبور (۶۹) ایسا ہی حضرت مسیح علیہ السلام نے ابتلا کی رات میں جس قدر تضرعات کئے۔وہ انجیل سے ظاہر ہیں۔تمام رات حضرت مسیح جاگتے رہے اور جیسے کسی کی جان ٹوٹتی ہے۔غم واندوہ سے ایسی حالت اُن پر طاری تھی۔وہ ساری رات رو رو کر دعا کرتے رہے تا وہ بلا کا پیالہ کہ جوان کے لئے مقدر تھاٹل جائے پر باوجود اس قدر گریہ وزاری کے پھر بھی دعا منظور نہ ہوئی کیونکہ ابتلا کے وقت دعا منظور نہیں ہوا کرتی۔پھر دیکھنا چاہئے کہ سیدنا ومولانا حضرت فخر الرسل و خاتم الانبیاء محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابتلا کی حالت میں کیا کیا تکلیفیں اٹھائیں اور ایک دعا میں مناجات کی کہ اے میرے رب میں اپنی کمزوری کی تیری جناب میں شکایت کرتا ہوں اور اپنی بے چارگی کا تیرے آستانہ پر گلہ گزار ہوں۔میری ذلت تیری نظر سے پوشیدہ نہیں۔جس قدر چاہے سختی کر کہ میں راضی ہوں جب تک تو راضی ہو جائے۔مجھ میں بجز تیرے کچھ قوت نہیں۔منہ