حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 574
حیات احمد ۵۷۴ جلد دوم حصہ سوم ابتلا جو اوائل حال میں انبیاء اور اولیاء پر نازل ہوتا ہے اور باوجود عزیز ہونے کے ذلت کی صورت میں ان کو ظاہر کرتا ہے اور باوجود مقبول ہونے کے کچھ مردود سے کر کے ان کو دکھاتا ہے یہ ابتلا اس لئے نازل نہیں ہوتا کہ ان کو ذلیل اور خوار اور تباہ کرے یا صفحہہ عالم سے ان کا نام ونشان مٹا یوے کیونکہ یہ تو ہر گز ممکن ہی نہیں کہ خدا وند عزوجل اپنے پیار کرنے والوں سے دشمنی کرنے لگے اور اپنے سچے اور وفادار عاشقوں کو ذلت کے ساتھ ہلاک کر ڈالے۔بلکہ حقیقت میں وہ ابتلا کہ جو شیر بر کی طرح اور سخت تاریکی کی مانند نازل ہوتا ہے اس لئے نازل ہوتا ہے تا اس برگزیدہ قوم کو قبولیت کے بلند مینار تک پہنچاوے اور الہی معارف کے بار یک دقیقے ان کو سکھا وے یہی سنت اللہ ہے جو قدیم سے خدائے تعالیٰ اپنے پیارے بندوں کے ساتھ استعمال کرتا چلا آیا ہے۔زبور میں حضرت داؤد کے ابتلائی حالت میں عاجزانہ نعرے اس سنت کو ظاہر کرتے ہیں۔اور انجیل میں آزمائش کے وقت میں حضرت مسیح کی غریبانہ تفرعات اسی عادت اللہ پر دال ہیں اور قرآن شریف اور احادیث نبویہ میں جناب فخر الرسل کی عبودیت سے ملی ہوئی ابتہالات اسی قانون قدرت کی تصریح کرتے ہیں۔اگر یہ ابتلا در میان میں نہ ہوتا۔تو انبیاء اور اولیاء اُن مدارج عالیہ کو ہرگز نہ پا سکتے کہ جو ابتلا کی برکت سے انہوں نے پالئے۔ابتلا نے اُن کی کامل وفاداری اور مستقل ارادے اور جانفشانی کی عادت پر مہر لگا دی اور ثابت کر دکھایا کہ وہ آزمائش کے زلازل کے وقت کس اعلیٰ درجہ کا استقلال رکھتے ہیں۔اور کیسے بچے وفادار اور عاشق صادق ہیں کہ ان پر آندھیاں چلیں اور حمید حاشیہ۔زبور میں حضرت داؤد علیہ السلام کی دعاؤں میں سے جو انہوں نے ابتلائی حالت میں کیں ایک یہ ہے۔اے خدا تو مجھ کو بچالے کہ پانی میری جان تک پہنچے ہیں۔میں گہری بیچ میں دھس چلا جہاں کھڑے ہونے کی جگہ نہیں۔میں چلاتے چلاتے تھک گیا میری آنکھیں دھندھلا گئیں۔وہ جو بے سبب میرا کینہ رکھتے ہیں شمار میں میرے سر کے بالوں سے زیادہ ہیں۔اے خدا وند رب الافواج وہ جو تیرا انتظار کرتے ہیں میرے لئے شرمندہ نہ ہوں۔وہ جو تجھ کو ڈھونڈھتے ہیں وہ میرے لئے ندامت نہ اٹھاویں۔وے پھاٹک پر بیٹھے ہوئے میری بابت بکتے ہیں اور نشے باز میرے حق میں گاتے ہیں۔تو میری ملامت کشی اور میری رسوائی اور میری بے حرمتی سے آگاہ ہے۔میں نے تا کا کہ کیا کوئی میرا ہمدرد ہے کوئی نہیں۔