حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 576 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 576

حیات احمد ۵۷۶ جلد دوم حصہ سوم کچھ بھی نہیں تھے۔غرض انبیاء و اولیاء ابتلا سے خالی نہیں ہوتے بلکہ سب سے بڑھ کر انہیں پر ابتلا نازل ہوتے ہیں۔اور انہیں قوت ایمانی ان آزمائشوں کی برداشت بھی کرتی ہے۔عوام الناس جیسے خدا تعالیٰ کو شناخت نہیں کر سکتے ویسے اُس کے خالص بندوں کی شناخت سے بھی قاصر ہیں بالخصوص اُن محبوبان الہی کی آزمائش کے وقتوں میں تو عوام الناس بڑے بڑے دھوکوں میں پڑ جاتے ہیں گویا ڈوب ہی جاتے ہیں۔اور اتنا صبر نہیں کر سکتے کہ ان کے انجام کار کے منتظر رہیں۔عوام کو یہ معلوم نہیں کہ اللہ جَلَّ شَانُہ جس پودے کو اپنے ہاتھ سے لگاتا ہے اُس کی شاخ تراشی اس غرض سے نہیں کرتا کہ اس کو نابود کر دیوے بلکہ اس غرض سے کرتا ہے کہ تا وہ پودہ پھول اور پھل زیادہ لاوے اور اس کے برگ اور بار میں برکت ہو۔پس خلاصہ کلام یہ کہ انبیا اور اولیا کی تربیت باطنی اور تکمیل روحانی کے لئے ابتلا کا ان پر وارد ہونا ضروریات سے ہے اور ابتلا اس قوم کے لئے ایسا لازم حال ہے کہ گویا ان ربانی سپاہیوں کی ایک روحانی وردی ہے جس سے یہ شناخت کئے جاتے ہیں۔اور جس شخص کو اس سنت کے برخلاف کوئی کامیابی ہو وہ استدراج ہے نہ کامیابی۔اور نیز یا درکھنا چاہئے کہ یہ نہایت درجہ کی بدقسمتی و نا سعادتی ہے کہ انسان جلد تر بدظنی کی طرف جھک جائے اور یہ اصول قرار دے دیوے کہ دنیا میں جس قدر خدا تعالیٰ کی راہ کے مدعی ہیں وہ سب مگار اور فریبی اور دوکاندار ہی ہیں۔کیونکہ ایسے رڈی اعتقاد سے رفتہ رفتہ وجود ولایت میں شک پڑے گا اور پھر ولایت سے انکاری ہونے کے بعد نبوت کے منصب میں کچھ کچھ تر ڈدات پیدا ہو جاویں گے اور پھر نبوت سے منکر ہونے کے پیچھے خدائے تعالیٰ کے وجود میں کچھ دغدغہ اور خلجان پیدا ہو کر یہ دھوکا دل میں شروع ہو جائے گا کہ شاید یہ ساری بات ہی بناوٹی اور بے اصل ہے۔اور شاید یہ سب اوہام۔باطلہ ہی ہیں کہ جو لوگوں کے دلوں میں جمتے ہوئے چلے آئے ہیں سواے سچائی کے ساتھ بجان و دل پیار کرنے والو! اور صداقت کے بھوکو اور پیاسو! یقیناً سمجھو کہ ایمان کو اس آشوب خانہ سے سلامت لے جانے کے لئے ولایت اور اس کے لوازم کا یقین نہایت ضروریات سے ہے ولایت نبوت کے اعتقاد کی پناہ ہے اور نبوت اور اقرار وجود باری تعالیٰ کے لئے پناہ۔پس اولیاء انبیاء کے وجود کے