حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 573 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 573

حیات احمد ۵۷۳ جلد دوم حصہ سوم سے کسی پیشگوئی کی تشخیص و تعیین میں کوئی غلطی وقوع میں آجائے تو کیا ایسی غلطی اس کے مرتبہ نبوت یا ولایت کو کچھ کم کر سکتی ہے یا گھٹا سکتی ہے ہر گز نہیں یہ سب خیالات نادانی و ناواقفیت کی وجہ سے بصورت اعتراض پیدا ہوتے ہیں۔چونکہ اس زمانہ میں جہالت کا انتشار ہے اور علوم دینیہ سے سخت درجہ کی لوگوں کو لا پرواہی ہے اس وجہ سے سیدھی بات بھی الٹی دکھائی دیتی ہے۔ورنہ یہ مسئلہ بالا تفاق مانا گیا اور قبول کیا گیا ہے کہ ہر یک نبی اور ولی سے اپنے اُن مکاشفات اور پیشگوئیوں کی تشخیص و تعیین میں کہ جہاں خدا تعالیٰ کی طرف سے بخوبی تفہیم نہیں ہوئی غلطی واقع ہو سکتی ہے اور اس غلطی سے اُن انبیاء اور اصفیاء کی شان میں کچھ بھی فرق نہیں آتا کیونکہ علم وحی بھی منجملہ علوم کے ایک علم ہے اور جو قاعدہ فطرت اور قانون قدرت قوت نظریہ کے دخل دینے کے وقت تمام علوم وفنون کے متعلق ہے اُس قاعدہ سے یہ علم باہر نہیں رہ سکتا اور جن لوگوں کو انبیاء اور اولیاء میں سے یہ علم دیا گیا ہے۔اُن کو مجبوراً اس کے تمام عوارض و لوازم بھی لینے پڑتے ہیں یعنی اُن پر وارد ہوتے ہیں۔جن میں سے ایک اجتہادی غلطی بھی ہے۔پس اگر اجتہادی غلطی قابل الزام ہے۔تو یہ الزام جمیع انبیاء و اولیاء وعلماء میں مشترک ہے۔یہ بھی نہیں سمجھنا چاہئے کہ کسی اجتہادی غلطی سے ربانی پیشگوئیوں کی شان وشوکت میں فرق آ جاتا ہے یا وہ نوع انسان کے لئے چنداں مفید نہیں رہتیں یا وہ دین اور دینداروں کے گروہ کو نقصان پہنچاتے ہیں کیونکہ اجتہادی غلطی اگر ہو بھی تو محض درمیانی اوقات میں بطور ابتلا کے وارد ہوتی ہے اور پھر اس قدر کثرت سے سچائی کے نور ظہور پذیر ہوتے ہیں اور تائیدات الہیہ اپنے جلوے دکھاتی ہیں کہ گویا ایک دن چڑھ جاتا ہے اور مخاصمین کے سب جھگڑے ان سے انفصال پا جاتے ہیں۔لیکن اس روز روشن کے ظہور سے پہلے ضرور ہے کہ خدا تعالیٰ کے فرستادوں پر سخت سخت آزمائشیں وارد ہوں اور ان کے پیرو اور تابعین بھی بخوبی جانچے اور آزمائے جائیں تا خدا تعالیٰ سچوں اور کچوں اور ثابت قدموں اور بزدلوں میں فرق کر کے دکھلا دیوے۔عشق اول سرکش و خونی بود تا گریزد ہر کہ بیرونی بولی ا ترجمہ۔شروع میں عشق بہت منہ زور اور خونخوار ہوتا ہے تا وہ شخص جو صرف تماشائی ہے بھاگ جائے۔