حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 572
حیات احمد ۵۷۲ جلد دوم حصہ سوم وو صریح اور صاف غلطی پکڑنے کے متعصبانہ حملہ کرتے ہیں۔پھر ہندولوگ اگر ایسی بے اصل باتیں منہ پر لاویں تو کچھ مضایقہ بھی نہیں کیونکہ وہ دشمن دین ہیں اور اسلام کے مقابل پر ہمیشہ سے ان کے پاس ایک ہی ہتھیار ہے یعنی جھوٹ و افتر ا لیکن نہایت تعجب میں ڈالنے والا واقعہ مسلمانوں کی حالت ہے کہ باوجود دعوی دینداری و پرہیز گاری اور باوجود عقائد اسلامیہ کے ایسے ہذیانات زبان پر لاتے ہیں۔اگر ہمارے ایسے اشتہارات اُن کی نظر سے گزرے ہوتے جن میں ہم نے قیاسی طور پر پسر متوفی کو مصلح موعود اور عمر پانے والا قرار دیا ہوتا۔تب بھی اُن کی ایمانی سمجھ اور عرفانی واقفیت کا مقتضا یہ ہونا چاہئے تھا کہ یہ ایک اجتہادی غلطی ہے جو کہ کبھی کبھی علماء ظاہر و باطن دونوں کو پیش آ جاتی ہے یہاں تک کہ اولوالعزم رسول بھی اُس سے باہر نہیں ہیں مگر اس جگہ تو کوئی ایسا اشتہار بھی شائع نہیں ہوا تھا۔محض دریا ندیده موزہ از پاکشیدہ پر عمل کیا گیا اور یادر ہے کہ یہ چند سطریں جو ہم نے عام مسلمانوں کی نسبت لکھی ہیں محض سچی ہمدردی کے تقاضا سے تحریر کی گئی ہیں تا وہ اپنے بے بنیاد وساوس سے باز آ جائیں۔اور ایسا رڈی اور فاسد اعتقاد دل میں پیدا نہ کر لیں جس کا کوئی اصل صحیح نہیں ہے۔بشیر احمد کی وفات پر وساوس اور اوہام میں پڑنا انہیں کی بے سمجھی و نادانی ظاہر کرتا ہے ورنہ کوئی محل آویزش و نکتہ چینی نہیں ہے۔ہم بار بار لکھ چکے ہیں کہ ہم نے کوئی اشتہار نہیں دیا۔جس میں ہم نے قطع اور یقین ظاہر کیا ہو کہ یہی لڑکا مصلح موعود اور عمر پانے والا ہے۔اور گو ہم اجتہادی طور پر اس کی ظاہری علامت سے کسی قدر اس خیال کی طرف جھک بھی گئے تھے مگر اسی وجہ سے اس خیال کی کھلے کھلے طور پر بذریعہ اشتہارات اشاعت نہیں کی گئی تھی کہ ہنوز یہ امر اجتہادی ہے اگر یہ اجتہاد صیح نہ ہوا تو عوام الناس جو دقائق اور معارف علم الہی سے محض بے خبر ہیں۔وہ دھوکا میں پڑ جائیں گے مگر نہایت افسوس ہے کہ پھر بھی عوام کالانعام دھوکا کھانے سے باز نہیں آئے۔اور اپنی طرف سے حاشیے چڑھا لئے۔انہیں اس بات کا ذرا بھی خیال نہیں کہ اُن کے اعتراضات کی بنا صرف یہ وہم ہے کہ کیوں اجتہادی غلطی وقوع میں آئی۔ہم اس کا جواب دیتے ہیں کہ اول تو کوئی ایسی اجتہادی غلطی ہم سے ظہور میں نہیں آئی جس پر ہم نے قطع اور یقین اور بھروسا کر کے عام طور پر اس کو شائع کیا ہو۔پھر بطور تنزل ہم یہ پوچھتے ہیں کہ اگر کسی نبی یا ولی