حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 571 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 571

حیات احمد ۵۷۱ جلد دوم حصہ سوم ☆ فرتوت ہو کر مرتے ہیں اور باعث سخت نالیاقتی فطرت کے جیسے آئے ویسے ہی جاتے ہیں۔غرض ہمیشہ اس کا نمونہ ہر ایک شخص اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتا ہے کہ بعض بچے ایسے کامل الخلقت ہوتے ہیں کہ صدیقوں کی پاکیزگی اور فلاسفروں کی دماغی طاقتیں اور عارفوں کی روشن ضمیری اپنی فطرت میں رکھتے ہیں اور ہونہار دکھائی دیتے ہیں مگر اس عالم بے ثبات میں رہنا نہیں پاتے اور کئی ایسے بچے بھی لوگوں نے دیکھے ہوں گے کہ ان کے لچھن اچھے نظر نہیں آتے اور فراست حکم کرتی ہے کہ اگر وہ عمر پاویں تو پرلے درجے کے بدذات اور شریر اور جاہل اور ناحق شناس نکلیں۔ابراہیم لخت جگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جو خورد سالی میں یعنی سولہویں مہینے میں فوت ہو گئے۔اُس کی صفائی استعداد کی تعریفیں اور اس کی صدیقانہ فطرت کی صفت و ثنا احادیث کے رو سے ثابت ہے ایسا ہی وہ بچہ جو خوردسالی میں حضرت خضر نے قتل کیا تھا۔اس کی خباثت جبلّی کا حال قرآن شریف کے بیان سے ظاہر وباہر ہے۔کفار کے بچوں کی نسبت کہ جو خوردسالی میں مر جائیں جو کچھ تعلیم اسلام ہے وہ بھی درحقیقت اسی قاعدہ کی رو سے ہے۔کہ بوجہ اس کہ الْوَلَدُ سِرِّ لَا بِيْهِ ان کی استعدادات ناقصہ ہیں غرض بلحاظ صفائی استعداد اور نورانیت اصل جوہر و مناسبت تامه دینی کے پر متوفی کے الہام میں وہ نام رکھے گئے تھے۔جوا بھی ذکر کئے گئے ہیں۔اب اگر کوئی تحكّم کی راہ سے کھینچ تان کر اُن ناموں کو عمر دراز ہونے کے ساتھ وابستہ کرنا چاہے تو یہ اُس کی سراسر شرارت ہوگی جس کی نسبت کبھی ہم نے کوئی یقینی اور قطعی رائے ظاہر نہیں کیا۔ہاں یہ سچ ہے اور بالکل سچ کہ ان فضائل ذاتیہ کے تصور کرنے سے شک کیا جاتا تھا کہ شاید یہی لڑکا مصلح موعود ہو گا۔مگر وہ شکی تقریر ہے جو کسی اشتہار کے ذریعہ سے شائع نہیں کی گئی۔ہندوؤں کی حالت پر سخت تعجب ہے کہ وہ باوصف اس کے کہ اپنے نجومیوں اور جوتشیوں کے منہ سے ہزار ہا ایسی باتیں سنتے ہیں کہ بالآخر وہ سراسر پوچ اور لغو اور جھوٹ نکلتی ہیں۔اور پھر اُن پر اعتقاد رکھنے سے باز نہیں آتے۔اور غذر پیش کر دیتے ہیں کہ حساب میں غلطی ہو گئی ہے ورنہ جوتش کے سچا ہونے میں کچھ کلام نہیں پھر با وصف ایسے اعتقادات سخیفہ اور ردیہ کے الہامی پیشگوئیوں پر بغیر کسی ترجمہ۔بچہ اپنے والد کی عادات لئے ہوتا ہے۔