حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 542
حیات احمد ۵۴۲ جلد دوم حصہ سوم بھی پیش از وقوع الہامی پیشگوئیاں بالمقابل بتلا سکتا ہوں۔چنانچہ اس دعوی کے پر کھنے کے لئے ۲۱ مئی ۱۸۸۸ء کو بروز دوشنبہ اس عاجز کے مکان فرودگاہ پر ایک بھارا جلسہ ہوا۔اور بہت سے مسلمان اور ہندو معزز اور رئیس شہر کے رونق افروز جلسہ ہوئے۔اور سب کو اس بات کے دیکھنے کا شوق تھا کہ کونسی پیشگوئیاں بالمقابل پیش کی جاتی ہیں۔آخر دس بجے کے بعد میاں فتح مسیح معہ چند دوسرے عیسائیوں کے جلسہ میں تشریف لائے اور بجائے اس کے کہ پیشگوئیاں پیش کرتے اور اور باتیں کہ جو سراسر واہیات اور خارج از مقصد تھیں شروع کر دیں۔آخر حاضرین میں سے ایک معزز ہند و صاحب نے انہیں کہا کہ یہ جلسہ صرف بالمقابل پیشگوئیاں کے پیش کرنے کے لئے انعقاد پایا ہے۔اور یہی آپ کا اقرار بھی ہے۔اور ایسے شوق سے سب لوگ اکٹھے ہوئے ہیں۔سو اس وقت الہامی پیشگوئیاں پیش کرنی چاہیں۔اس کے جواب میں میاں فتح مسیح نے کہا کہ اصل بات یہ ہے کہ میری طرف سے دعویٰ الہام نہیں ہے۔اور جو کچھ میرے منہ سے نکلا تھا۔میں نے یوں ہی فریق ثانی کے دعوے کے مقابل پر ایک دعوی کر دیا تھا۔کیونکہ میں جانتا ہوں کہ ان کا جھوٹا دعوی ہے۔سوالیسا ہی میں نے بھی ایک دعوی کر دیا۔اس پر بہت لوگوں نے انہیں ملزم کیا۔کہ یہ دروغ گوئی نیک چلنی کے برخلاف تم سے وقوع میں آئی۔اگر تم فی الحقیقت ملہم نہیں تھے تو پھر خلاف واقعہ ملہم ہونے کا کیوں دعویٰ کیا۔غرض حاضرین کی طرف سے میاں فتح مسیح کو اس کی درنگوئی پر سخت عتاب ہو کر جلسہ برخواست ہوا۔اور دیسی عیسائیوں کے چلن کا نمونہ عام لوگوں پر کھل گیا۔اور ہمیں سخت افسوس ہوا کہ ایسے شخص کے ساتھ جس کو سچائی اور دیانت کی کچھ بھی پروا نہیں۔کیوں اپنا وقت عزیز ضائع کیا۔اگر کوئی معزز درجہ کا یورپین عیسائی ہوتا تو البتہ ایسے فاش دروغ اور قابل ندامت جھوٹ سے پر ہیز کرتا۔