حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 543
حیات احمد ۵۴۳ جلد دوم حصہ سوم اب اس اشتہار کے جاری کرنے سے یہ مطلب ہے کہ اگر کوئی معزز یورپین عیسائی صاحب ملہم ہونے کا دعویٰ کرتے ہوں تو انہیں بصد رغبت ہماری طرف سے اجازت ہے کہ بمقام بٹالہ جہاں آخر رمضان تک انشاء اللہ ہم رہیں گے کوئی جلسہ مقرر کر کے ہمارے مقابل پر اپنی الہامی پیشگوئیاں پیش کریں۔بشرطیکہ فتح مسیح کی طرح اپنی دروغ گوئی کا اقرار کر کے میدان مقابلہ سے بھا گنا نہ چاہیں۔اور نیز اس اشتہار میں پادری وائٹ بریخٹ صاحب جو اس علاقہ کے ایک معزز یورپین پادری ہیں۔ہمارے بالتخصیص مخاطب ہیں۔اور ہم پادری صاحب کو یہ بھی اجازت دیتے ہیں کہ اگر وہ صاف طور پر جلسہ عام میں اقرار کر دیں کہ یہ الہامی طاقت عیسائی گروہ سے مسلوب ہے تو ہم ان سے کوئی پیشگوئی بالمقابل طلب نہیں کریں گے۔بلکہ حسب درخواست ان کی ایک جلسہ مقرر کر کے فقط اپنی طرف سے ایسی الہامی پیشگوئیاں پیش از وقوع پیش کریں گے۔جن کی نسبت اُن کو کسی طور پر شک و شبہ کرنے کی گنجائش نہیں ہوگی اور اگر ہماری طرف سے اس جلسہ میں کوئی ایسی قطعی ویقینی پیشگوئی پیش نہ ہوئی کہ جو عام ہندوؤں اور مسلمانوں اور عیسائیوں کی نظر میں انسانی طاقتوں سے بالا تر متصور ہو تو ہم اُسی جلسہ میں دو سو روپیہ نقد پادری صاحب موصوف کو بطور ہرجانہ یا تاوان تکلیف دہی کے دے دیں گے چاہیں تو وہ دوسو روپیہ کسی معزز ہندو صاحب کے پاس پہلے ہی جمع کرا کر اپنی تسلی کر لیں لیکن اگر پادری صاحب نے خود تسلیم کر لیا کہ حقیقت میں یہ پیشگوئی انسانی طاقتوں سے بالاتر ہے تو پھر ان پر واجب ولا زم ہوگا کہ اس کا جھوٹ یا سچ پر کھنے کے لئے سیدھے کھڑے ہو جائیں۔اور اخبار نور افشاں میں جو ان کی مذہبی اخبار ہے۔اس پیشگوئی کو درج کرا کر ساتھ اس کے اپنا اقرار بھی چھپوا ئیں۔کہ میں نے اس پیشگوئی کو مِنْ كُلِّ الْوُجُوْہ گوانسانی طاقتوں سے بالاتر قبول کر لیا۔اسی وجہ سے تسلیم کر لیا ہے کہ اگر یہ پیشگوئی سچی ہے تو بلا شبہ قبولیت اور