حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 539
حیات احمد ۵۳۹ جلد دوم حصہ سوم جو شہر کے دروازہ کے پاس باہر تھا (راقم الحروف نے اس مقام کو بارہا دیکھا اور بعض تقریروں پر وہاں جانے اور خود زمیندار نبی بخش سے بھی ملاقات کے مواقع ہوئے ) پادری فتح مسیح نے اپنی شخصی شہرت کے لئے اس موقعہ کو غنیمت سمجھا۔حالانکہ تقاضائے اخلاق تو یہ تھا کہ ایسے موقع پر جبکہ آپ نے اپنے بچے کے علاج کے لئے مسافرانہ آئے ہوئے ہیں کسی قسم کی چھیڑ چھاڑ نہ کی جاوے مگر فتح مسیح نے موقع کو منتخب سمجھا اور ابھی حضرت اقدس کو وہاں آئے ہوئے ایک ہفتہ ہی ہوا تھا آپ کے مکان پر پہنچ کر آپ سے مقابلہ کی دعوت دی اس کیفیت کو خود حضرت کی زبان سے سنو جو آپ نے بذریعہ اشتہارات شائع کی یہ تمام مکمل روئداد اس مباحثہ کی ہے۔ضمیمہ اخبار ریاض ہندا مرتسر بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلَّى عَلَى رَسُوْلِهِ الْكَرِيمِ اعلان ۱۸ مئی ۸۸ روز جمعہ میں ایک صاحب فتح مسیح نام عیسائی واعظ نے بمقام بٹالہ اس عاجز کے مکان نشست گاہ پر آکر ایک عام جلسہ میں جس میں پچاس سے کچھ زیادہ آدمی مسلمان اور ہندو بھی تھے۔مجھ سے مخاطب ہو کر یہ دعویٰ کیا کہ جیسے آپ اس بات کے مدعی ہیں کہ میری اکثر دعا ئیں جناب الہی میں بپایہ قبولیت پہنچ کر ان کی قبولیت سے پیش از وقوع مجھ کو اللہ جل شانہ بذریعہ اپنے الہام خاص کے اطلاع دے دیتا ہے اور غیب کی باتوں پر مجھے مطلع کرتا ہے۔یہی مرتبہ لہم ہونے کا مجھ کو بھی حاصل ہے۔اور خدائے تعالیٰ مجھ سے بھی ہمکلام ہو کر اور میری دعائیں قبول کر کے پیش از ظہور مجھ کو اطلاع دے دیتا ہے۔اس لئے میں آپ سے آپ کی پیشگوئیوں یہ اعلان ضمیمه اخبار ریاض ہند مطبوعہ ۲۱ رمئی ۱۸۸۸ء کے صفحہ ۱۵، ۱۶ پر ہے۔(المرتب)