حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 538
حیات احمد ۵۳۸ ۱۸۸۸ء کے حالات جلد دوم حصہ سوم ۱۸۸۸ء کے واقعات اور حالات میں ایک عظیم الشان واقعہ عیسائیوں پر اتمام حجت ہے۔پادری فتح مسیح سے مقابلہ اور یہ اتمام حجت روحانی طور پر آسمانی نشانات میں مقابلہ کے طور پر ہوا۔اور اس کی ابتدا پادری فتح مسیح کے چیلنج سے ہوئی۔حضرت اقدس مئی ۱۸۸۸ء میں صاحبزادہ بشیر احمد (بشیر اوّل) کی علالت کی وجہ سے بغرض علاج بٹالہ آئے ہوئے تھے اس وقت آپ کا قیام چوہدری نبی بخش زمیندار بٹالہ کے مکان پر تھا ی حاشیہ۔پادری فتح مسیح ضلع گورداسپور کے موضع فتح گڑھ چورایاں کا باشندہ تھا اور عیسائی ہو گیا تھا اس وقت جو مسلمان مرتد ہو کر عیسائی ہو جاتا تھا اس کے لئے مشنریوں کے پاس عزت اور وقعت حاصل کرنے کا ذریعہ اسلام کی مخالفت اور گندہ دہانی تھی اور پادری عمادالدین نے اسی قسم کا لٹریچر جمع کر دیا ہوا تھا بٹالہ میں اس وقت انچارج مشنری وائٹ بر سخٹ تھا جو بعد میں ڈاکٹر سٹانٹن کے نام سے مشہور تھا۔میں ۱۹۲۶ء میں اس کے گھر جا کر ملا تھا۔وہ عرصہ تک بٹالہ میں رہا اور فتح مسیح اس کے ماتحت واعظ کا کام کرتا تھا۔اس نے سستی شہرت کا ذریعہ حضرت مسیح موعود (علیہ الصلواۃ والسلام ) سے مقابلہ سمجھا اس وقت تک آپ کا دعوئی نہ تھا اور نہ آپ بصحت رہتے تھے اور میں ذاتی طور پر فتح مسیح سے نہ صرف واقف تھا بلکہ بعض دفعہ اس سے گفتگو ہوئی وہ نہایت گندہ زبان تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک ذات پر اور اُمَّهَاتُ الْمُؤْمِنِينَ پر حملے کرنے کا عادی تھا رض اور اپنی شوخیوں کی وجہ سے پادری وائٹ برسخٹ کا منہ چڑھا بھی تھا۔اس چیلنج کے علاوہ جس کا ذکر میں اوپر کر رہا ہوں اور اس نے (۱۸۹ء میں حضرت اقدس سے خط و کتابت بھی کی جس کے جواب میں نورالقرآن شائع ہوا۔میں نے اس خط و کتابت کو مکتوبات احمد یہ جلد سوم میں شائع کر دیا ہے۔آخر وہ ناکام و نامراد حضرت کی زندگی میں فوت ہو گیا حالانکہ وہ ایک نو جوان تھا۔( عرفانی الكبير )