حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 482 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 482

حیات احمد ۴۸۲ جلد دوم حصہ سوم منکرین اسلام پر اتمام حجت بذریعہ چہل روزہ مقابلہ کی دعوت ۱۸۸۶ء کے عظیم الشان واقعات کے سلسلہ میں منکرین اسلام پر اتمام حجت کے لئے آپ کا چہل روزہ مقابلہ کی دعوت ہے۔اس سے پیشتر آپ نے منکرین اسلام کو ایک سال کے لئے اپنے بقیہ حاشیہ۔عورتیں اس اشتہار کے بعد بھی تیرے نکاح میں آئیں گی۔اور ان سے اولاد پیدا ہوگی۔اس پیشگوئی پر منشی صاحب فرماتے ہیں۔کہ الہام کئی قسم کا ہوتا ہے۔نیکوں کو نیک باتوں کا اور زانیوں کو عورتوں کا۔ہم اس جگہ کچھ لکھنا نہیں چاہتے۔ناظرین منشی صاحب کی تہذیب کا آپ اندازہ کر لیں پھر ایک اور صاحب ملازم دفتر ایگزیمنر صاحب ریلوے لاہور کے جو اپنا نام نبی بخش ظاہر کرتے ہیں۔اپنے خط مرسلہ ۱۳ جون ۱۸۸۶ء میں اس عاجز کو لکھتے ہیں کہ تمہاری پیشگوئی جھوٹی نکلی۔اور دختر پیدا ہوئی۔اور تم حقیقت میں بڑے فریبی اور مکار اور دروغ گو آدمی ہو ہم اس کے جواب میں بجز اس کے کیا کہہ سکتے ہیں۔کہ اے خدائے قادر مطلق یہ لوگ اندھے ہیں ان کو آنکھیں بخش۔یہ نادان ہیں۔ان کو سمجھ عطا کر۔یہ شرارتوں سے بھرے ہوئے ہیں۔ان کو نیکی کی توفیق دے۔بھلا کوئی اس بزرگ سے پوچھے کہ وہ فقرہ یا لفظ کہاں ہے جو کسی اشتہار میں اس عاجز کے قلم سے نکلا ہے۔جس کا یہ مطلب ہے کہ لڑکا اسی حمل میں پیدا ہو گا۔اس سے ہر گز مختلف نہیں کرے گا۔اگر میں نے کسی جگہ ایسا لکھا ہے۔تو میاں نبی بخش صاحب پر واجب ہے کہ اس کو کسی اخبار میں چھپادیں۔اس عاجز کے اشتہارات پر اگر کوئی منصف آنکھ کھول کر نظر ڈالے تو اسے معلوم ہوگا کہ ان میں کوئی بھی ایسی پیشگوئی درج نہیں۔جس میں ایک ذرہ غلطی کی بھی گرفت ہو سکے۔بقیہ حاشیہ در حاشیہ۔مرزا صاحب کی یہ پیشگوئی سراسر غلط نکلی کہ میرے گھر میں لڑکا پیدا ہو گا۔کیونکہ ۱۵ ر ا پریل کو ان کے گھر میں دختر پیدا ہوگئی۔فقط اب منصف لوگ جو راستی پسند ہیں۔مرزا صاحب کے اشتہارات کو پڑھ کر اور پھر جو کچھ ان مخالفوں نے ان اشتہارات کا نتیجہ نکالا ہے۔اس پر بھی نظر ڈال کر سمجھ سکتے ہیں کہ ان لوگوں کا کینہ اور بغض اور ان کا مادہ ناخدا ترسی اور دروغگو ئی کس حد تک بڑھ گیا ہے۔ہر سہ اشتہار جو مرزا صاحب نے اس بارہ میں چھپوائے ہیں۔اس وقت ہمارے سامنے رکھے ہیں۔پہلا اشتہار جس کو مرزا صاحب نے بیس فروری ۱۸۸ء کو بمقام ہوشیار پور شائع کیا تھا۔اس میں کوئی تاریخ درج نہیں۔کہ وہ لڑکا جس کے صفات اشتہار میں درج ہیں کب اور کس سال پیدا ہو گا۔دوسرا اشتہار جو ۲۲ مارچ ۱۸۸۶ء کو مرزا صاحب کی