حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 481 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 481

حیات احمد ۴۸۱ جلد دوم حصہ سوم مخالفین اپنی طرف سے عوام میں یہ مشہور کر رہے تھے کہ نعوذ باللہ یہ سلسلہ مکر وفریب پر مبنی ہے۔بقیہ حاشیہ۔انہوں نے طب کے ذریعہ سے معلوم کر لیا ہو گا کہ لڑکا پیدا ہونے والا ہے۔اسی طرح ایک صاحب محمد رمضان نام نے پنجابی اخبار ۲۰ مارچ ۱۸۸۶ء میں چھپوایا۔کہ لڑکا پیدا ہونے کی بشارت دینا منجاب اللہ ہونے کا ثبوت نہیں ہو سکتا۔جس نے ارسطو کا ورکس دیکھا ہو گا۔حاملہ عورت کا قارورہ دیکھ کر لڑکا یا لڑکی پیدا ہونا ٹھیک ٹھیک بتلا سکتا ہے اور بعض مخالف مسلمان یہ بھی کہتے تھے کہ اصل میں ڈیڑھ ماہ سے یعنی پیشگوئی بیان کرنے سے پہلے لڑکا پیدا ہو چکا ہے۔جس کو فریب کے طور پر چھپا رکھا ہے۔اور عنقریب مشہور کیا جائے گا کہ پیدا ہو گیا۔سو یہ اچھا ہوا کہ خدائے تعالیٰ نے تولد فرزند مسعود موعود کو دوسرے وقت پر ڈال دیا۔ورنہ اگر اب کی دفعہ ہی پیدا ہو جاتا۔تو ان مفتریات مذکورہ بالا کا کون فیصلہ کرتا لیکن اب تولد فرزند موصوف کی بشارت غیب محض ہے۔نہ کوئی حمل موجود ہے تا ارسطو کے ورکس یا جالینوس کے قواعد حمل دانی بالمعارضہ پیش ہوسکیں۔اور نہ اب کوئی بچہ چھپا ہوا ہے۔تا وہ مدت کے بعد نکالا جائے بلکہ نو برس کے عرصہ تک خود اپنے زندہ رہنے کا ہی حال معلوم نہیں اور نہ یہ معلوم کہ اس عرصہ تک کسی قسم کی اولاد خواہ نخواہ پیدا ہو گی۔چہ جائے کہ لڑکا پیدا ہونے پر کسی اٹکل سے قطع اور یقین کیا جائے اخیر پر ہم یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ اخبار مذکورہ بالا میں منشی محمد رمضان صاحب نے تہذیب سے گفتگو نہیں کی۔بلکہ دینی مخالفوں کی طرح جا بجا مشہور افترا پردازوں سے اس عاجز کو نسبت دی ہے۔اور ایک جگہ پر جہاں اس عاجز نے ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء کے اشتہار میں یہ پیشگوئی خدا تعالیٰ کی طرف سے بیان کی تھی کہ اس نے مجھے بشارت دی ہے کہ بعض بابرکت بقیہ حاشیہ در حاشیہ۔اسی ذمہ واری کے خط بھیجے۔اور اسی مضمون کا ہیں ہزار اشتہار شائع کیا۔تب سے آریوں اور پادریوں وغیرہ کے دلوں پر ایک عجیب طور کا دھڑ کا شروع ہو رہا ہے۔اور ہر طرف سے جزع اور فزع کی آوازیں آ رہی ہیں بالخصوص بعض اوباش طبع آریوں نے تو صرف زبان درازی اور دشنام دہی اور نالائق بہتانوں سے ہی کام لینا چاہا۔تا کسی طرح آفتاب صداقت پر خاک ڈال دیں مگر سچائی کے نوران کے چھپانے سے چھپ نہیں سکتے اور یہ تو قدیم سے عادت اللہ جاری ہے کہ ہمیشہ راست باز آدمی ستائے جاتے ہیں۔اور ان کے حق میں نا اہل آدمی طرح طرح کی باتیں بولا کرتے ہیں مگر آخر حق کا ہی بول بالا ہوتا ہے۔اب تازہ افترا جو محض ناخدا ترسی کی راہ سے بعض نادان متعصب آریوں اور عیسائیوں نے کیا ہے۔جس کا ذکر ایک شخص مسمی پنڈت لیکھرام پشاوری کی طرف سے اشتہار مطبوعہ شفیق ہند پریس لاہور میں ایک عیسائی صاحب کی طرف سے پرچہ نور افشاں مطبوعہ ۳/ جون میں دیکھا گیا ہے۔یہ ہے کہ