حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 483 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 483

حیات احمد ۴۸۳ جلد دوم حصہ سوم پاس رہنے کی دعوت دی تھی تا کہ آپ ان کو آسمانی نشان دکھا ئیں اس مقابلہ یک سالہ میں کوئی شخص نہیں آیا تھا اندر من مراد آبادی نے آمادگی ظاہر کی اور حضرت نے اس کے لئے چوبیس سو روپیہ بھی بقیہ حاشیہ۔بلکہ وہ کچی ہیں اور عنقریب اپنے اپنے وقت پر ظہور پکڑ کر مخالفین کی ذلت اور رسوائی کا موجب ہوں گی۔دیکھو ہم نے ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء میں جو پیشگوئی اجمالی طور پر لکھی تھی کہ امیر نو وارد پنجابی الاصل کو کچھ ابتلاء در پیش ہے۔کیسی وہ سچی نکلی۔ہم نے صد ہا ہندوؤں اور مسلمانوں کو مختلف شہروں میں بتلا دیا تھا کہ اس شخص پنجابی الاصل سے مراد دلیپ سنگھ ہے۔جس کی پنجاب میں آنے کی خبر مشہور ہو رہی ہے۔لیکن اس ارادہ سکونت پنجاب میں وہ ناکام رہے گا بلکہ اس سفر میں اس کی عزت آسائش یا جان کا خطرہ ہے۔اور یہ پیشگوئی ایسے وقت میں لکھی گئی۔اور عام طور پر بتلائی گئی تھی۔یعنی ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء کو جبکہ اس ابتلا کا کوئی اثر ونشان ظاہر نہ تھا۔بالآ خر اس کو مطابق اسی پیشگوئی کے بہت حرج اور تکلیف اور سبکی اور خجالت اٹھانی پڑی۔اور اپنے مدعا سے محروم رہا۔سو دیکھو کہ اس پیشگوئی کی صداقت کیسی کھل گئی۔اسی طرح سے اپنے اپنے وقت پر سب پیشگوئیوں کی سچائی ظاہر ہوگی اور دشمن روسیاہ نہ ایک دفعہ بلکہ کئی دفعہ رسوا ہوں گے۔یہ خدائے تعالیٰ کا فعل ہے جو ابھی تک انہیں اندھا کر رکھا ہے۔ان کے دلوں کو سخت کر دیا۔اور ہمارے دل میں در داور خیر خواہی کا طوفان مچا دیا۔سو اس مشکل کے حل کے لئے اسی کی جناب میں تضرع کرتے ہیں۔اے خدا نور دہ ایں تیرہ درو نانے را یا مده درد دگر هیچ خدا دانے را وَالسَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى - المشتهر خاکسار غلام احمد۔مؤلف براہین احمدیہ از قادیان۔مطبوعہ ریاض ہند پریس امرت سر۔ضلع گورداسپور پنجاب۔تبلیغ رسالت جلد اصفحه ۸۳ تا ۹۱ - مجموعه اشتہارات جلد اوّل صفحه ۱۰۸ تا ۱۱۴ بار دوم ) بقیہ حاشیہ در حاشیہ:۔طرف سے شائع کیا گیا۔یہ بہت مفید اشتہار ہے۔اس میں بتصریح تمام کھول دیا گیا ہے کہ وہ لڑکا نو برس کے اندر پیدا ہو جائے گا۔اس میعاد سے تخلف نہیں کرے گا۔لیکن تیسرا اشتہار جو مرزا صاحب کی طرف سے ۱۸ اپریل ۱۸۸۶ء کو جاری ہوا۔اس کی الہامی عبارت ذوی الوجوہ اور کچھ گول گول ہے۔اور اس میں کوئی تصریح نہیں کہ وہ کب اور کس تاریخ میں پیدا ہو گا۔ہاں اس میں ایک یہ فقرہ ہے کہ ایک لڑکا بہت ہی قریب ہونے والا ہے جو مدت حمل سے تجاوز نہیں کر سکتا۔اب ظاہر