حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 480
حیات احمد ۴۸۰ جلد دوم حصہ سوم عظیم الشان مصلح کی جو آپ کی ذریت سے ہوگا پیدا ہونے کی بشارت دی ہے وہ لوگ جو آپ کے ساتھ محبت و اخلاص رکھتے تھے وہ اسی عظیم الشان انسان کے آنے کی راہ تک رہے تھے اور معاندین و بقیہ حاشیہ۔وہ سمجھ سکتا ہے کہ کسی زوالوجوہ فقرہ کے معنے کرنے کے وقت وہ سب احتمالات مدنظر رکھنے چاہیں۔جو اس فقرہ سے پیدا ہو سکتے ہیں۔سو فقرہ مذکورہ بالا یعنی یہ کہ مدت حمل سے تجاوز نہیں کر سکتا ایک ذ والوجوہ فقرہ ہے۔جس کی ٹھیک ٹھیک وہی تشریح ہے جو میر عباس علی شاہ صاحب لدھانوی نے اپنے اشتہار آٹھ جون ۱۸۸۶ ء میں کی ہے۔یعنی یہ کہ مدت موعودہ حمل سے (جونو برس ہے ) یا مدت معہودہ حمل سے ( جوطبیبوں کے نزدیک اڑھائی برس یا کچھ زیادہ ہے) تجاوز نہیں کر سکتا۔اگر حمل موجودہ میں حصر رکھنا مخصوص ہوتا تو عبارت یوں چاہئے تھی کہ اس باقی ماندہ ایام حمل سے ہرگز تجاوز نہیں کرے گا۔اور اسی وجہ سے ہم نے اُس اشتہار میں اشارہ بھی کر دیا تھا کہ وہ فقرہ مذکورہ بالا حمل موجودہ سے مخصوص نہیں ہے مگر جو دل کے اندھے ہیں وہ آنکھوں کے اندھے بھی ہو جاتے ہیں۔بالآخر ہم یہ بھی لکھنا چاہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ ایک بڑی حکمت اور مصلحت ہے کہ اس نے اب کی دفعہ لڑکا عطا نہیں کیا۔کیونکہ اگر وہ اب کی دفعہ ہی پیدا ہوتا تو ایسے لوگوں پر کیا اثر پڑ سکتا جو پہلے ہی سے یہ کہتے تھے کہ قواعد طبی کے رو سے حمل موجودہ کی علامات سے ایک حکیم آدمی بتلا سکتا ہے کہ کیا پیدا ہو گا۔اور پنڈت لیکھر ام پشاوری اور بعض دیگر مخالف اس عاجز پر یہی الزام رکھتے تھے کہ ان کو فن طبابت میں مہارت ہے۔د حاشیہ در حاشیہ۔بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ اشتہار واجب الاظہار يُرِيدُونَ لِيُطْفِئُوا نُوْرَ اللَّهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَاللهُ مُتِمُّ نُورِهِ وَلَوْ كَرِهَ الْكَفِرُونَ مبارک وے جو راستبازی کے سبب ستائے جاتے ہیں کیونکہ آسمان کی بادشاہت انہیں کی ہے۔(انجیل ۵-۱۰) ۲ جب سے مرزا غلام احمد صاحب (مؤلف براہین احمدیہ ) نے یہ دعویٰ ہر ایک قوم کی مقابلہ پر کرنا شروع کیا ہے کہ خاص قرآن شریف میں ہی یہ ذاتی خاصیت پائی جاتی ہے کہ اس کے بچے اتباع سے برکتیں نازل ہوتی ہیں۔اور خوارق ظہور میں آتے ہیں۔مقبولانِ الہی میں جگہ ملتی ہے۔اور نہ صرف دعوی کیا بلکہ ان باتوں کا ثبوت دینے میں بھی اپنا ذمہ لیا۔یوروپ اور امریکہ کے ملکوں تک رجسٹری کرا کر لے وہ چاہتے ہیں کہ وہ اپنے منہ کی پھونکوں سے اللہ کے نور کو بجھا دیں حالانکہ اللہ ہر حال میں اپنا نور پورا کرنے والا ہے خواہ کا فرنا پسند کریں (الصف: ۹) سے انجیل متی باب ۵ آیت ۱۰ ( ناشر )