حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 479
حیات احمد جلد دوم حصہ سوم بر پا رہا۔ان تمام معترضین کے اعتراضوں نے اور خدائے تعالیٰ کی مشیت نے عصمت کی پیدائش سے مصلح موعود کی پیشنگوئی کو خوب شہرت دے دی اور تمام ملک میں یہ اعلان ہو گیا کہ حضرت نے ایک بقیہ حاشیہ۔سو واضح ہو کہ بعض مخالف ناخدا ترس جن کے دلوں کو زنگ تعصب و بخل نے سیاہ کر رکھا ہے ہمارے اشتہار مطبوعہ ۱/۸ اپریل ۱۸۸۶ء کو یہودیوں کی طرح محرف و مبدل کر کے اور کچھ کے کچھ معنے بنا کر سادہ لوح لوگوں کو سناتے ہیں۔اور نیز اپنی طرف سے اشتہارات شائع کرتے ہیں تا دھوکہ دے کر ان کے یہ ذہن نشین کریں کہ جو لڑکا پیدا ہونے کی پیشگوئی تھی اس کا وقت گزر گیا اور وہ غلط نکلی۔ہم اس کے جواب میں صرف لعنت اللہ علی الکاذبین کہنا کافی سمجھتے ہیں لیکن ساتھ ہی ہم افسوس بھی کرتے ہیں کہ ان بے عزتوں اور دیوثوں کو باعث سخت درجہ کے کینہ اور بخل اور تعصب کے اب کسی کی لعنت ملامت کا بھی کچھ خوف اور اندیشہ نہیں رہا۔اور جو شرم اور حیا اور خدا ترسی لازمہ انسانیت ہے وہ سب نیک خصلتیں ایسی ان کی سرشت سے اٹھ گئی ہیں کہ گویا خدا تعالیٰ نے ان میں وہ پیدا ہی نہیں کیں اور جیسے ایک بیمارا اپنی صحت یابی سے نو امید ہو کر اور صرف چند روز زندگی سمجھ کر سب پر ہیزیں توڑ دیتا ہے اور جو چاہتا ہے کھا پی لیتا ہے اسی طرح انہوں نے بھی اپنی مرض کینہ اور تعصب اور دشمنی کو ایک آزار لاعلاج خیال کر کے دل کھول کر بد پر ہیزیاں اور بے راہیاں شروع کی ہیں۔جن کا انجام بخیر نہیں۔تعصب اور کینہ کے سخت جنون نے کیسی ان کی عقل مار دی ہے۔نہیں دیکھتے کہ اشتہا ر ۲۲ مارچ ۱۸۸۶ ء میں صاف صاف تولد فرزند موصوف کے لئے نو برس کی میعاد لکھی گئی ہے اور اشتہار ۱/۸اپریل ۱۸۸۶ء میں کسی برس یا مہینہ کا ذکر نہیں اور نہ اس میں یہ ذکر ہے کہ جو نو برس کی میعاد رکھی گئی تھی۔اب وہ منسوخ ہو گئی ہے۔ہاں اس اشتہار میں ایک یہ فقرہ ذوالوجوہ درج ہے کہ مدت حمل سے تجاوز نہیں کر سکتا۔مگر کیا اسی قدر فقرہ سے یہ ثابت ہو گیا کہ مدت حمل سے ایام باقی ماندہ حمل موجودہ مراد ہیں۔کوئی اور مدت مراد نہیں۔اگر اس فقرہ کے سر پر اس کا لفظ ہوتا تو بھی اعتراض کرنے کے لئے کچھ گنجائش نکل سکتی۔مگر جب الہامی عبارت کے سر پر اس کا لفظ ( جو شخصص وقت ہوسکتا ہے ) وارد نہیں تو پھر خواہ مخواہ اس فقرہ سے وہ معنے نکالنا جو اس صورت میں نکالے جاتے ہیں جو اس کا لفظ فقرہ مذکور کے سر پر ہوتا ہے۔اگر بے ایمانی اور بد دیانتی نہیں تو اور کیا ہے۔دانشمند آدمی جس کی عقل اور فہم میں کچھ آفت نہیں۔اور جس کے دل پر کسی تعصب یا شرارت کا حجاب نہیں۔