حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 470 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 470

حیات احمد جلد دوم حصہ سوم آریہ سماج لا ہور اور پھر منشی اندر من صاحب مراد آبادی اور پھر کوئی اور دوسرے صاحب آریوں میں سے جو معزز اور ذی علم تسلیم کئے گئے ہوں مخاطب کئے جاتے ہیں کہ اگر وہ وید کی اُن تعلیموں کو جن کو کسی قدر ہم اس رسالہ (سرمہ چشم آریہ مراد ہے۔عرفانی) میں تحریر کر چکے ہیں۔فی الحقیقت صحیح اور بچے سمجھتے ہیں اور ان کے مقابل جو قرآن شریف کے اصول تعلیمیں اسی رسالہ میں بیان کی گئی ہیں ان کو باطل اور دروغ خیال کرتے ہیں تو اس بارہ میں ہم سے مباہلہ کر لیں اور کوئی مقام مباہلہ کا برضا مندی فریقین قرار پا کر ہم دونوں فریق تاریخ مقررہ پر اس جگہ حاضر ہو جائیں اور ہریک فریق مجمع عام میں اٹھ کر اس مضمون مباہلہ کی نسبت جو اس رسالہ (سرمہ چشم آریہ۔عرفانی) کے خاتمہ میں بطور نمونہ اقرار فریقین جلی قلم سے لکھا گیا ہے تین مرتبہ قسم کھا کر تصدیق کریں کہ ہم فی الحقیقت اس کو سچ سمجھتے ہیں اور اگر ہمارا بیان راستی پر نہیں تو ہم پر اسی دنیا میں وبال اور عذاب نازل ہو۔غرض جو جو عبارتیں ہر دو کاغذ مباہلہ میں مندرج ہیں جو جانبین کے اعتقاد ہیں بحالت دروغ گوئی عذاب مترتب ہونے کی شرط پر اُن کی تصدیق کرنی چاہئے اور پھر فیصلہ آسمانی کے انتظار کے لئے ایک برس کی مہلت ہوگی پھر اگر برس گزرنے کے بعد مؤلّف رسالہ ہذا پر کوئی عذاب اور وبال نازل ہوا یا حریف مقابل پر نازل نہ ہوا تو ان دونوں صورتوں میں یہ عاجز قابل تاوان پانسو روپیہ ٹھہرے گا جس کو برضا مندی فریقین خزانہ سرکاری میں یا جس جگہ بآسانی وہ روپیہ مخالف کومل سکے داخل کر دیا جائے گا۔اور در حالت غلبہ خود بخود اس روپیہ کے وصول کرنے کا فریق مخالف مستحق ہوگا۔اور اگر ہم غالب آئے تو کچھ بھی شرط نہیں کرتے کیونکہ شرط کے عوض میں وہی دعا کے آثار کا ظاہر ہونا کافی ہے۔“ سرمه چشم آریہ صفحه ۲۴۵ تا ۲۵۱۔روحانی خزائن جلد ۲ صفحه ۲۹۵ تا ۳۰۱)