حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 471 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 471

حیات احمد جلد دوم حصہ سوم یہ تحدی آپ نے شائع کی اور تین ماہ چھوڑ ساٹھ سال گزر گئے اور آریہ سماج میں سے کوئی شخص اس مقابلہ کے لئے کھڑا نہ ہوا۔حضرت اقدس اس اعلان کے بعد ۲۲ سال تک زندہ رہے اور کسی آریہ کو یہ ہمت نہ ہوئی اور آریہ سماج کے جن معزز افراد اور ارکان کو مخاطب کیا گیا تھا انہوں نے اپنے عمل سے حضرت اقدس کی سچائی پر مہر کر دی پنڈت لیکھرام کی تالیف خبط کے متعلق مناسب موقعہ پر بحث ہوگی۔اس مباحثہ کے علمی ثمرات اس مباحثہ کے علمی ثمرات کی تفصیل بہت طویل ہے قرآن مجید کے جن حقائق و معارف کا اظہار آپ نے فرمایا وہ میری کسی تشریح کا محتاج نہیں میں یہاں صرف اس قدر لکھنا چاہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ نے جوسفر ہوشیار پور کو مبارک ٹھہرایا یہ بھی انہیں برکات میں سے ایک بہت بڑی برکت ہے کہ قرآن مجید کے حقائق و معارف کا ایک دریا آپ نے بہا دیا۔اور قانون قدرت معجزات۔روح کی حقیقت اور اس کے خواص جیسے مضامین پر نہایت لطیف اور مدلل و مفصل بحث آپ نے کی اور جو کچھ لکھا وہ قرآن مجید سے لکھا۔اس کی تفصیل کے لئے میں اس کتاب کے پڑھنے والوں کو کہوں گا کہ وہ سرمہ چشم آریہ کا مطالعہ کریں۔پسر موعود کے اشتہار پر رڈ وقدح ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء کو جو اشتہار دیا گیا تھا اس کے اس حصہ نے جو ایک موعود مصلح کے متعلق تھا ایک شور ملک میں ڈال دیا۔مختلف قسم کے اعتراضات اس پر ہوئے۔سب سے پہلے تو ہوشیار پور ہی میں اعتراض کیا گیا اور یہ اعتراض ایک آریہ صاحب کی طرف سے تھا۔اس نے کہا لڑکا لڑکی پیدا ہونے کی شناخت دائیوں کو بھی ہوتی ہے یعنی دائیاں بھی معلوم کر سکتی ہیں کہ لڑکا پیدا ہوگا یا لڑکی اس معترض نے پیشگوئی کی اہمیت اور عظمت کو کم کرنے کے لئے اس قسم کا اعتراض کیا تھا۔یہ پیشگوئی ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء کے اشتہار میں شائع کی گئی مگر حقیقت یہ ہے که قریبا دو سال پیشتر آپ نے خدا تعالیٰ سے علم پا کر اس کا اظہار کر دیا تھا۔چنانچہ حضرت اقدس