حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 469 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 469

حیات احمد ۴۶۹ جلد دوم حصہ سوم جس امر میں امور دینیہ میں سے چاہے اطلاع دے تو ہم ایک رسالہ بالتزام آیات بینات و دلائل عقلیہ قرآنی تالیف کر کے اس غرض سے شائع کردیں گے کہ تا اسی التزام سے وید کے معارف اور اُس کی فلاسفی دکھائی جائے اور اس تکلیف کشی کے عوض میں ایسے وید خوان کے لئے ہم کسی قدر انعام بھی کسی ثالث کے پاس جمع کرا دیں گے جو غالب ہونے کی حالت میں اُس کو ملے گا۔شرط یہی ہے کہ وہ ویدوں کو پڑھ سکتا ہوتا ہمارے وقت کو ناحق ضائع نہ کرے۔جاننا چاہئے کہ جو شخص حق سے اپنے تئیں آپ دور لے جاوے اس کو ملعون کہتے ہیں اور جو حق کے حاصل کرنے میں اپنے نفس کی آپ مدد کرے اس کو مقرون کہتے ہیں اب ہمارے مقابل پر مقرون یا ملعون بنا آریوں کے ہاتھ میں ہے اگر کوئی باتمیز آریہ جو ویدوں کی حقیقت سے خبر رکھتا ہو موازنہ و مقابلہ وید و قرآن کی نیت سے تین ماہ کے عرصہ تک میدان میں آگیا اور ہماری طرف سے جو رسالہ بحوالہ آیات و دلائل قرآنی تالیف ہو وید کی شرتیوں کی رو سے اُس نے رڈ کر کے دکھلا دیا تو اُس نے وید کے پیروؤں کی عزت رکھ لی اور مقرون کے معزز خطاب سے ملقب ہو گیا لیکن اگر اس عرصہ میں کسی ویدوان نے تحریک نہ کی تو وہ خطاب جو مقرون کے مقابل پر ہے سب نے اپنے لئے قبول کر لیا۔اور اگر پھر بھی باز نہ آویں تو آخِرُ الحِيَل مباہلہ ہے جس کی طرف ہم پہلے اشارت کر آئے۔ہیں مباہلہ کے لیے وید خوان ہونا ضروری نہیں ہاں باتمیز اور ایک باعزت اور نامور آریہ ضرور چاہئے جس کا اثر دوسروں پر بھی پڑ سکے سو سب سے پہلے لالہ مرلی دھر صاحب اور پھر لالہ جیونداس صاحب سیکرٹری بقیہ حاشیہ۔اس وقت کسی نوع سے ٹھہرنا مصلحت نہیں سمجھتے تو میں دو روز اور اس جگہ ہوں اور اپنا دن رات اسی خدمت میں صرف کر سکتا ہوں لیکن انہوں نے جواب دیا کہ فرصت نہیں۔اخیر پر ہم یہ بھی ظاہر کرنا مناسب سمجھتے ہیں کہ ماسٹر صاحب جو کچھ گھر پر جا کر لکھیں گے ہمیں کچھ اطلاع نہیں اس لئے ہم اس کی نسبت کچھ تحریر کرنے سے معذور ہیں۔منہ