حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 466 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 466

حیات احمد ۴۶۶ جلد دوم حصہ سوم اگر گھر میں بیٹھ کر لکھنا تھا تو پھر اس جلسہ بحث کی ضرورت ہی کیا تھی مگر ماسٹر صاحب نے نہ مانا اور کیونکر مانتے اُن کی تو اُس وقت حالت ہی اور ہو رہی تھی۔اب قصہ کوتاہ یہ کہ جب کسی طور سے ماسٹر صاحب نے لکھنا منظور نہ کیا تو نا چار پھر یہ کہا گیا کہ جس قدر آپ نے لکھا ہے وہی ہم کو دیں تا اُس کا ہم جواب الجواب لکھیں تو اس کے جواب میں انہوں نے بیان کیا کہ اب ہماری سماج کا وقت ہے اب ہم بیٹھ نہیں سکتے۔ناچار جب وہ جانے کے لئے مستعد ہوئے تو اُن کو کہا گیا کہ آپ نے یہ اچھا نہیں کیا کہ جو کچھ باہم عہد ہو چکا تھا اُس کو توڑ دیا نہ آپ پورا جواب لکھا اور نہ ہمیں اب جواب الجواب لکھنے دیتے ہیں۔خیر بدرجۂ ناچاری یہ جواب الجواب بھی بطور خود تحریر کر کے رسالہ کے ساتھ شامل کیا جائے گا۔چنانچہ یہ بات سنتے ہی ماسٹر صاحب معہ اپنے رفیقوں کے اٹھ کر چلے گئے اور حاضرین جلسہ جن کے نام حاشیہ میں درج ہیں بخوبی معلوم کر گئے کہ ماسٹر صاحب کی یہ تمام کاروائی گریز اور کنارہ کشی کے لئے ایک بہانہ تھی۔م اب ہم قبل اس کے کہ ماسٹر صاحب کا پہلا سوال جوشق القمر کے بارہ میں ہے تحریر کریں صفائی بیان کے لئے ایک مقدمہ لکھتے ہیں۔یہ مقدمہ درحقیقت اسی مضمون کا ایک حصہ ہے جس کو ہم نے جلسہ بحث گیارہویں مارچ ۱۸۸۶ء میں ماسٹر صاحب کے جواب الجواب کے رڈ میں حاشیہ۔نام حاضرین جلسہ جو ماسٹر صاحب کی بیجا کا روائی کے گواہ ہیں شیخ مہر علی صاحب رئیس اعظم ہوشیار پور۔مولوی الہی بخش صاحب وکیل ہوشیار پور۔ڈاکٹر مصطفی علی صاحب۔بابو احمد حسین صاحب ڈپٹی انسپکٹر پولیس ہوشیار پور۔میاں عبداللہ صاحب حکیم۔میاں شہاب الدین صاحب دفعدار۔لالہ نرائن داس صاحب وکیل۔پنڈت جگن ناتھ صاحب وکیل۔لالہ رام کچھمن صاحب ہیڈ ماسٹر لودھیانہ۔بابو ہرکشن داس صاحب سیکنڈ ماسٹر۔لالہ گنیش داس صاحب وکیل۔لالہ سیتا رام صاحب مہاجن۔میاں شتر و گهن صاحب پسر کلاں راجہ صاحب سوکیت۔میاں شترن جی صاحب پسر خورد راجہ صاحب موصوف۔منشی گلاب سنگھ صاحب سرشتہ دار۔مولوی غلام رسول صاحب مدرس۔مولوی فتح الدین صاحب مدرس۔ان تمام حاضرین کے روبرو لالہ مرلی دھر صاحب ڈرائنگ ماسٹر نے ہر ایک بات میں نا انصافی کی۔اس عاجز نے اپنا اعتراض ایک گھنٹہ کے قریب سنا دیا تھا مگر انہوں نے تین گھنٹہ تک وقت