حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 467
حیات احمد ۴۶۷ جلد دوم حصہ سوم لکھنا چاہا تھا مگر بوجہ عہد شکنی ماسٹر صاحب اور چلے جانے ان کے اور برخاست ہو جانے جلسہ بحث کے لکھ نہ سکے ناچار حسب وعدہ اب لکھنا پڑا۔سو کچھ اس میں اس جگہ اور کچھ جیسا کہ مناسب محل و ترتیب ہوگا بعد میں لکھیں گے۔وَمَا تَوْفِيقِی اِلَّا بِاللهِ هُوَ نِعْمَ الْمَوْلَى وَنِعْمَ النَّصِيرُ سرمه چشم آریہ صفحه ۴ تا ۱۱۔روحانی خزائن جلد ۲ صفحه ۵۲ تا ۵۹ ) یہ مباحثہ آریہ سماج پر غیر فانی حجت ثابت ہوا یوں تو آریہ سماج کے ساتھ حضرت اقدس ایک عرصہ سے قلمی جنگ میں مصروف تھے جیسا کہ حضرت کی سوانح حیات کی پہلی جلد میں ذکر آچکا ہے اور ایک چھوٹا سا مباحثہ بھی بمقام قادیان پنڈت کھڑک سنگھ سے ہو چکا تھا۔پنڈت لیکھر ام قادیان میں آیا مگر اس نے اپنے وقت کو خط وکتابت ہی میں کھویا ماسٹر مرلی دھر صاحب میدان میں آئے مباحثہ میں ان کی کیا حالت بقیہ حاشیہ۔لیا اور پھر بھی اعتراض کا ایک ٹکڑہ چھوڑ گئے اصل منشا ان کا یہ معلوم ہوتا تھا کہ کسی طرح دن گزر جائے اور اس بلا سے نجات پائیں مگر دن ان کا دشمن ابھی تیسرے حصہ کے قریب سر پر کھڑا تھا اور واضح رہے کہ ماسٹر صاحب کا یہ عذر کہ اب ہماری سماج کا وقت آ گیا ہے باکل عبث اور کچا بہا نہ تھا۔اوّل تو ماسٹر صاحب نے پہلے کوئی ایسی شرط نہیں کی تھی کہ جب سماج کا وقت ہوگا تو بحث کو درمیان میں چھوڑ کر چلے جائیں گے ماسوائے اس کے یہ تو دین کا کام تھا اور جن لوگوں نے سماج میں حاضر ہونا تھا وہ تو سب موجود تھے بلکہ بہت سے ہندو اور مسلمان اپنا اپنا کام چھوڑ کر اسی غرض سے حاضر تھے اور تمام صحن مکان کا حاضرین سے بھرا ہوا تھا سو اگر ماسٹر صاحب کی نیت میں فرق نہ ہوتا تو اسی جلسہ عظیمہ کو جو صد ہا آدمیوں کا مجمع تھا سماج سمجھا ہو تا علت غائی سماجوں کی لیکچر وغیرہ ہی ہوا کرتی تھی سو وہ تو اس جگہ ایسی میسر تھی کہ جو سماج میں کبھی میسر نہیں آئی ہو گی۔ماسوائے اس کے جب ماسٹر صاحب نے بہت سا حصہ وقت کا صرف باتوں میں ہی ضائع کر کے پھر بہت سی سستی اور آہستگی سے جواب لکھنا شروع کیا تو اُسی وقت ہم سمجھ گئے تھے کہ آپ کی نیت میں خیر نہیں ہے اسی خیال سے اُن کو کہا تھا کہ بہتر یوں ہے کہ جو جو ورق آپ لکھتے جائیں وہ مجھے آپ دیتے جائیں تا میں اس کا جواب الجواب بھی لکھتا جاؤں اس انتظام سے دونوں فریق جلد تر فراغت کر لیں گے مگر ان کا تو مطلب ہی اور تھا وہ کیونکر ایسے انصاف کی باتوں کو قبول