حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 465 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 465

حیات احمد ۴۶۵ جلد دوم حصہ سوم اب دوسرا جلسہ جو چودہویں مارچ ۸۶ء میں دن کے وقت شیخ مہر علی صاحب رئیس اعظم ہوشیار پور کے مکان پر ہوا اس کی بھی کیفیت سینیے۔اوّل حسب قرار داد اِس عاجز کی طرف سے ایک تحریری اعتراض پیش ہوا جس کا مطلب یہ تھا کہ خدائے تعالیٰ کی خالقیت سے انکار کرنا اور پھر اُسی کے التزام سے جاودانی نجات سے منکر رہنا جو آریہ سماج والوں کا اصول ہے اس سے خدائے تعالیٰ کی توحید و رحمت دونوں دور ہوتی ہیں۔جب یہ اعتراض جلسہ عام میں سنایا گیا تو ماسٹر صاحب پر ایک عجیب حالت طاری ہوئی جس کی کیفیت کو ماسٹر صاحب ہی کا جی جانتا ہوگا اور نیز وہ سب لوگ جو فہیم اور زیرک حاضر جلسہ تھے معلوم کر گئے ہوں گے۔ماسٹر صاحب کو اُس وقت کچھ بھی سوجھتا نہیں تھا کہ اس کا کیا جواب دیں سونا چار حیلہ جوئی کی غرض سے گھنٹہ سوا گھنٹہ کے عرصہ تک یہی عذر پیش کرتے رہے کہ یہ سوال ایک نہیں ہے بلکہ دو ہیں تو اس کے جواب میں عرض کر دیا گیا کہ حقیقت میں سوال ایک ہی ہے یعنی خدائے تعالیٰ کی خالقیت سے انکار کرنا اور مکتی میعادی اُسی خراب اصول کا ایک بداثر ہے جو اُس سے الگ نہیں ہوسکتا اس جہت سے دونوں ٹکڑے سوال کے حقیقت میں ایک ہی ہیں کیونکہ جو شخص خدائے تعالیٰ کی خالقیت سے منکر ہوگا اس کے لئے ممکن نہیں کہ ہمیشہ کی نجات کا اقرار کر سکے سو انکار خالقیت اور انکار نجات جاودانی با ہم لازم و ملزوم ہے اور ایک دوسرے سے پیدا ہوتا ہے سو در حقیقت جو شخص یہ ثابت کرنا چاہے کہ خدائے تعالیٰ کے رب العالمین اور خالق ہونے میں کچھ حرج نہیں اس کو یہ ثابت کرنا بھی لازم آ جائے گا کہ خدائے تعالیٰ کے کامل بندوں کا ہمیشہ جنم مرن کے عذاب میں مبتلا رہنا اور کبھی دائمی نجات نہ پانا یہ بھی کچھ مضائقہ کی بات نہیں۔غرض بعد بہت سے سمجھانے کے پھر ماسٹر صاحب کچھ سمجھے اور جواب لکھنا شروع کیا اور تین گھنٹہ تک بہت سے وقت اور غم و غصہ کے بعد ایک ٹکرہ سوال کا جواب قلم بند کر کے سنایا اور دوسرے ٹکرہ کی بابت جو کتی کے بارہ میں تھا یہ جواب دیا کہ اس کا جواب ہم اپنے مکان پر جا کر لکھ کر بھیج دیں گے چنانچہ اس طرف سے ایسا جواب لینے سے انکار ہوا اور عرض کر دیا گیا کہ آپ نے جو کچھ لکھنا ہے اسی جلسہ میں حاضرین کے روبر و تحریر کریں