حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 461
حیات احمد ۴۶۱ جلد دوم حصہ سوم ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء کو جبکہ اس ابتلا کا کوئی اثر ونشان ظاہر نہ تھا۔بالآخر اُس کو مطابق اسی پیشگوئی کے بہت ہرج اور تکلیف اور سبکی اور خجالت اٹھانی پڑی۔اور اپنے مدعا سے محروم رہا۔“ تبلیغ رسالت جلد اصفحه ۹۰ - مجموعہ اشتہارات جلد اصفحہ ۱۳ اطبع دوم ) اسی طرح سرسید اور اپنے جدی اقارب کے متعلق جو پیشگوئیاں بعد میں بصراحت شائع ہوئیں۔اپنے وقت پر پوری ہوئیں۔میں انہیں اپنے محل پر بیان کروں گا۔وَبِاللهِ التَّوْفِيقِ - اور خود حضرت کی کتب میں ان کی تصریحات ہو بھی ہو چکی ہیں۔پنڈت لیکھرام کے متعلق باوجود یکہ حضرت نے پیشگوئی شائع کی اور وہ پوری ہوئی۔افسوس ہے کہ اس پیشگوئی کے متعلق جو خط و کتابت تھی وہ قتل لیکھرام کے بعد جب حضرت کی تلاشی ہوئی پولیس لے گئی۔مگر حضرت نے اپنی تصنیفات میں اس کے اقتباس اور حوالہ جات دے دیئے ہوئے ہیں فی الجملہ یہ سفر ہوشیار پور اور حضرت کا مجاہدہ چہل روزہ اور اس کے بعد اشتہار تاریخ سلسلہ کا ایک شاندار اور پہلا باب ہے۔آریہ سماج سے پہلا مباحثہ ہوشیار پور کے اس سفر میں جب آپ نے چہل روزہ عبادت وخلوت کو ختم کیا تو عوام کو بھی ملاقات کا موقعہ دیا جیسا کہ پہلے سے اعلان کر دیا گیا تھا ان ایام میں آریہ سماج اپنے پر چار میں بہت سرگرم تھا۔ہوشیار پور کی آریہ سماج کے رکن رکین ماسٹر مرلی دھر صاحب ڈرائنگ ماسٹر گورنمنٹ سکول تھے خاکسار ( عرفانی الکبیر ) کو ماسٹر مرلی دھر سے ذاتی اور بے تکلف ملاقات کا موقعہ ملا ہے۔اس لئے کہ وہ ۱۸۹۱ ۱۸۹۲ء میں لاہور کے ماڈل سکول میں تبدیل ہو کر آ گئے تھے اور عرفانی ماڈل سکول کی آخری کلاس کا ایک طالب علم تھا۔اس زمانہ میں ماڈل سکول میں ماسٹر چند ولال مشہور عیسائی اور پنڈت بہا نورث مشہور سناتن دھرمی لیڈر اور ماسٹر مرلی دھر آریہ سماجی اور مولوی خلیفہ حمید الدین صاحب حمایت اسلام کے صدر اور لا ہور اور پنجاب کے ممتاز عالم ایک جگہ جمع تھے اور ہر ایک سے مجھے گفتگوؤں کا موقع ملتا۔اس زمانہ کے احباب میں سے حضرت مرزا ناصر علی صاحب رضی اللہ عنہ شریک جماعت اور ان کے بھائی بھی۔بہر حال ماسٹر صاحب سے