حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 460 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 460

حیات احمد ۴۶۰ جلد دوم حصہ سوم یہ بیان کرنا ہے کہ اس اشتہار نے ان لوگوں پر کیا اثر کیا جن کے متعلق صراحت سے ذکر کیا گیا تھا اس اشتہار میں آپ نے صراحتا بلا تاویل پنڈت اندر من مراد آبادی اور پنڈتے لیکھر ام پیشاوری کا نام لے کر ان کی قضا و قدر کے متعلق بقید وقت و تاریخ تحریر کرنے کا اعلان کیا تھا۔اور اپنی نسبت ☆ اپنے بعض جدی اقارب کی نسبت اپنے بعض دوستوں کی نسبت بلا اظہار نام بعض پیشگوئیوں کے معلوم ہونے کا ذکر فرمایا اور کنايةَ الْكِنَايَةُ ابْلَغُ مِنَ الصَّرَاحَةِ کے رنگ میں سرسید احمد خاں رمہاراجہ دلیپ سنگھ کے متعلق بعض متوحش خبریں بھی آپ کو معلوم ہو چکی تھیں۔اگر چہ آخری دونوں صاحبوں کا نام کنایۃ لیا گیا ہے۔مگر فوراہر ایک آدمی اسے سمجھ لیتا ہے۔جیسا کہ اس اشتہار میں درج ہے کہ آپ نے دو ہفتہ کی میعاد دے دی تھی اگر کوئی صاحب اپنے قضا و قدر کے متعلق کسی کو پیشگوئی کا اندراج شاق ہو تو وہ اطلاع دے دیں تا کہ درج رسالہ نہ کی جاوے لیکن اس اعلان کے بعد اندرمن نے تو اعتراض کیا اور کچھ عرصہ کے بعد فوت ہو گیا۔لیکن پنڈت لیکھرام نے بڑی دلیری سے ایک کارڈ لکھا کہ ”میں آپ کی پیشگوئیوں کو واہیات سمجھتا ہوں میرے حق میں جو چاہو شائع کرو میری طرف سے اجازت ہے اور میں کچھ خوف نہیں کرتا سرسید نے خاموشی اختیار کی اور مہاراجہ دلیپ سنگھ کو کوئی موقعہ نہ تھا۔حضرت اقدس نے دلیپ سنگھ کے متعلق پیشگوئی کو عام طور پر کھول کر بھی بیان کر دیا تھا چنانچہ آپ نے اشتہار محک اخیار و اشرار مشمولہ سرمه چشم آریہ میں تحدی کے ساتھ اعلان کیا۔” دیکھو ہم نے ۲۰ / فروری ۱۸۸۶ء کو جو پیشگوئی اجمالی طور پر لکھی تھی ایک امیر نووارد پنجابی الاصل کو کچھ ابتلا در پیش ہے۔کیسی وہ سچی نکلی۔ہم نے صد ہا ہندوؤں اور مسلمانوں کو مختلف شہروں میں بتلا دیا تھا کہ اس پنجابی الاصل سے مراد دلیپ سنگھ ہے جس کی پنجاب میں آنے کی خبر مشہور ہورہی ہے لیکن اس ارادہ سکونت پنجاب میں وہ نا کام رہے گا بلکہ اس سفر میں اس کی عزت۔آسائش یا جان کا خطرہ ہے یہ پیشگوئی ایسے وقت میں لکھی گئی اور عام طور پر بتلائی گئی تھی۔یعنی یا ترجمہ۔اشارہ میں بات کرنا صراحت سے بات کرنے سے زیادہ بلیغ ہے۔