حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 462
حیات احمد ۴۶۲ جلد دوم حصہ سوم سکول میں بھی اور سکول سے باہر بھی حتی کہ آریہ سماج و چھوالی کے سالانہ جلسہ پر جن میں پنڈت لیکھرام بھی ہوتے تھے مذاکرات مذہبی کا سلسلہ جاری رہتا تھا میں نے ماسٹر صاحب سے حضرت صاحب کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے صرف اس قدر کہا کہ ” مرزا صاحب غیر معمولی علم رکھتے ہیں میں نے علمائے اسلام میں وہ چیز نہیں دیکھی جو اُن میں ہے“۔یہ آریہ سماج سے بالمشافہ اور مجلس مناظرہ میں پہلا مناظرہ تھا اس سے پہلے گو قلمی جنگ جاری تھا جس کا ذکر حیات احمد پہلی جلد میں آچکا ہے اس کے بعد آریہ سماج پر اتمام حجت کا دوسرا دور شروع ہو گیا جو انوار و برکات کے چینج کی صورت میں تھا۔میں اس مباحثہ کے متعلق کچھ زیادہ تفصیل سے لکھنا غیر ضروری سمجھتا ہوں حضرت اقدس نے اس مباحثہ کو سُرمہ چشم آریہ کے نام سے شائع کر دیا ہے۔اس کتاب کے پڑھنے والے تفصیل سے وہاں پڑھیں۔یہاں صرف اس روئیداد کے متعلق اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ کسی شخص کو یہ کہنے کا حق حاصل نہیں کہ یکطرفہ یہ روئیداد شائع ہوئی بلکہ ماسٹر مرلی دہر صاحب کو بھیجی گئی۔اور وہ اس کے بعد عرصہ دراز تک زندہ رہے انہیں کبھی حوصلہ نہ ہوا کہ اس کی تردید کریں میں نے خود ماسٹر مرلی دہر صاحب سے دریافت کیا تو انہوں نے مجھے یہ جواب دیا کہ واقعات درست ہیں نتائج اپنے طرز پر مرزا صاحب نے پیدا کر لئے ہیں اور ہر شخص پڑھ کر رائے قائم کر سکتا ہے۔میں نے عرض کیا کہ نتائج ان واقعات سے وہی پیدا ہوتے ہیں۔تو کہا کہ اپنا اپنا خیال ہے۔میں نے کہا کہ آپ تردید کریں تو کہا ضرورت نہیں۔یہ اسی گفتگو کا مفہوم اور خلاصہ ہے جو میں نے مباحثہ ہوشیار پور کے متعلق ان سے کی تھی۔