حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 434 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 434

حیات احمد ۴۳۴ جلد دوم حصہ سوم ایک ادنیٰ خادم اور پیرو ہے اور اسی رسول مقبول کی برکت و متابعت سے یہ انوار و برکات ظاہر ہورہے ہیں۔سو اس جگہ کرامت کا لفظ موزوں ہے نہ معجزہ کا اور ایسا ہی ہم لوگوں کے بول چال میں آتا ہے اور جو اقلیدس کی طرح ثبوت مانگتے ہیں۔اس میں یہ عرض ہے کہ جس قدر بفضلہ تعالیٰ روشن نشان آپ کو دکھلائے جائیں گے بمقابلہ ان کے ثبوت اقلیدس کا جواکثر دوائرہ موہومہ پر مبنی ہے ناکارہ اور پیچ ہے۔اقلیدس کے ثبوتوں میں کئی محل گرفت کی جگہ ہیں اور ان ثبوتوں کی ایسی ہی مثال ہے کہ جیسے کوئی کہے۔کہ اگر اول آپ بلادلیل کسی ایک چارپایہ کی نسبت یہ مان لیجئے کہ یہ چار پا یہ نجاست کھا لیتا ہے اور میں میں کرتا ہے اور بدن پر اس کے اون ہے تو ہم ثابت کر دیں گے کہ وہ بھیڑ کا بچہ ہے۔ایسا ہی اقلیدس کے بیانات میں اکثر تناقض ہے۔جیسے اول وہ آپ ہی لکھتا ہے۔نقطہ وہ شئے ہے جس کی کوئی جز نہ ہو یعنی بالکل قابل انقسام نہ ہو۔پھر دوسری جگہ آپ ہی تجویز کرتا ہے کہ ہر ایک خط کے دوٹکڑے ایسے ہو سکتے ہیں کہ وہ دونوں اپنے اپنے مقدار میں برابر ہوں۔اب فرض کرو کہ ایک خط مستقیم ایسا ہے جونو لفظوں سے مرکب ہے اور بموجب دعوئی اقلیدس کے ہم چاہتے ہیں جو اس کے دوٹکڑے مساوی کریں تو اس صورت میں یا تو یہ امر خلاف قرار داد پیش آئے گا کہ ایک نقطہ کے دوٹکڑے ہو جائیں اور یا یہ دعوی اقلیدس کا ہر ایک خط مستقیم دوٹکڑے مساوی ہو سکتا ہے غلط ٹھہرے گا۔غرض اقلیدس میں بہت سی وہمی اور بے ثبوت باتیں بھری ہوئی ہیں جن کو جاننے والے خوب جانتے ہیں مگر آسمانی نشان تو وہ چیز ہے کہ وہ خود منکر کی ذات پر ہی وارد ہو کر حق الیقین تک اس کو پہنچا سکتا ہے۔اور انسان کو بجز اس کے ماننے کے کچھ بن نہیں پڑتا۔سو آپ تسلی رکھیں کہ اقلیدس کے ناچیز خیالات کو ان عالی مرتبہ نشانوں سے کچھ نسبت نہیں۔چه نسبت خاک را با عالم پاک و اور یہ نہیں کہ صرف اس عاجز کے بیان پر ہی حصر رہے گا بلکہ یہ فیصلہ بذریعہ ثالثوں کے ہو جائے گا۔اور جب تک ثالث لوگ جو فریقین کے مذہب سے الگ ہوں گے یہ شہادت نہ دیں کہ ہاں فی الحقیقت یہ خوارق اور پیشگوئیاں انسانی طاقت سے باہر ہیں۔تب تک آپ غالب اور یہ ترجمہ۔دنیوی لوگوں کو عالم پاک سے کیا نسبت۔