حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 433 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 433

حیات احمد ۴۳۳ جلد دوم حصہ سوم کوٹھی نہیں رکھتا اور اس عاجز کا گھر اس قسم کی عیش و نشاط کا گھر نہیں ہوسکتا جس کی طرف دنیا پرستوں کی طبیعتیں راغب اور مائل ہیں۔ہاں اپنی حیثیت اور طاقت کے موافق مہمانوں کے لئے خَالِصًا لله مکانات بنارکھے ہیں اور جہاں تک بس چل سکتا ہے ان کی خدمت کے لئے آمادہ و حاضر ہوں سو اگر ایسے مکانات میں گزارہ کرنا چاہیں تو بہتر ہے کہ اوّل آ کر اُن کو دیکھ لیں۔لیکن اگر آپ تنتم پسند لوگوں کی طرح مجھ سے یہ درخواست کریں کہ میرے لئے ایک ایسا شیش محل چاہئے جو ہر ایک طرح کے فرش فروش سے آراستہ ہو۔جا بجا تصویر میں لگی ہوئی اور مکان سجا ہوا اور بوتلوں میں مست اور متوالا کرنے والی چیز بھری ہوئی رکھی ہو۔اور اردگرد مکان کے ایک خوشنما باغ اور چاروں طرف اس کے نہریں جاری ہوں اور دس ہیں خدمتگار غلاموں کی طرح حاضر ہوں تو ایسا مکان پیش کرنے سے مجبور اور معذور ہوں۔بلکہ ایک سادہ مکان جوان تکلفات سے خالی لیکن معمولی طور پر گزارہ کرنے کا مکان ہو موجود اور حاضر ہے۔اور مکرر کہتا ہوں کہ آپ کو پر تکلف مکانات اور دوسرے لوازم سے گریز کرنا چاہئے تا آپ میں مسیح کی زندگی کے علامات ظاہر ہو جائیں۔اور میں ہرگز خیال نہیں کرتا کہ یہ مکان آپ کو کچھ تکلیف دہ ہوگا بلکہ مجھے کامل تسلی ہے کہ ایک شکر گزار آدمی ایسے مکان میں رہ کر کوئی کلمہ شکوہ شکایت کا منہ پر نہیں لائے گا۔کیونکہ مکان وسیع موجود ہے۔اور گزارہ کرنے کے لئے سب کچھ مل سکتا ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ اگر آپ بعد ملاحظہ مکان چند معمولی اور جائز باتوں میں جو ہماری طاقت میں ہوں فرمائش کریں تو وہ بھی بفضلہ تعالیٰ میسر آ سکتی ہیں۔مگر بہر حال آپ کا تشریف لانا از بس ضروری ہے۔پھر آپ دوسری شرط یہ لکھتے ہیں کہ الہام اور معجزہ کا ثبوت ایسا چاہئے جیسے کتاب اقلیدس میں ثبوت درج ہیں جن سے ہمارے دل قائل ہو جائیں۔اس میں اوّل اس عاجز کی بات کو یاد رکھیں کہ ہم لوگ معجزہ کا لفظ صرف اُسی محل میں بولا کرتے ہیں جب کوئی خارق عادت کسی نبی اور رسول کی طرف منسوب ہولیکن یہ عاجز نہ نبی اور نہ رسول ہے، صرف اپنے نبی معصوم محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا ☆ یہ آپ کی سچائی کی دلیل ہے کہ جب تک اللہ تعالیٰ نے آپ پر اس راز نبوت کو نہیں کھولا۔آپ نے بھی دعوی نہ کیا (ایڈیٹر )