حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 435 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 435

حیات احمد ۴۳۵ جلد دوم حصہ سوم عاجز مغلوب ہو جائے گا۔لیکن در صورت مل جانے ایسی گواہیوں کے جو اُن خوارق اور پیشگوئیوں کو انسانی طاقت سے بالا تر قرار دیتی ہوں۔تو آپ مغلوب اور میں بفضلہ تعالیٰ غالب ہوں گا۔اور اُسی وقت آپ پر لازم ہو گا کہ اسی جگہ قادیان میں بشرف اسلام مشرف ہو جائیں۔پھر آپ اپنے خط کے اخیر پر یہ لکھتے ہیں کہ اگر شرائط مذکورہ بالا کو قبول نہیں فرماؤ گے۔تو آپ کا حال اور یہ شرائط چند اخبار ہند میں شائع کئے جائیں گے۔سو مشفق من! جو کچھ حق حق تھا آپ کی خدمت میں لکھ دیا گیا ہے اور یہ عاجز آپ کے حالات شائع کرنے کرانے سے ہرگز نہیں ڈرتا۔بلکہ خدا جانے آپ کب اور کس وقت اپنی طرف سے اخباروں میں یہ مضمون درج کرائیں گے مگر یہ خاکسار تو آج ہی کی تاریخ میں ایک نقل اس خط کی بعض اخباروں میں درج کرنے کے لئے روانہ کرتا ہے اور آپ کو یہ خوشخبری پہلے سے سنا دیتا ہے تا آپ کی تکلیف کشی کی حاجت نہ رہے۔اور من بعد جو کچھ آپ کی طرف سے ظہور میں آئے گا وہ بھی بیس روز تک انتظار کر کے چند اخباروں میں چھپوا دیا جائے گا۔اگر آپ کچھ غیرت کو کام میں لا کر قادیان میں آگئے تو پھر آپ دیکھیں گے کہ خداوند کریم کس کے ساتھ ہے اور کس کی حمایت اور نصرت کرتا ہے اور پھر اس وقت آپ پر یہ بھی کھل جائے گا کہ کیا سچا اور حقیقی خدا جو خالق اور مالک ارض وسما ہے وہ حقیقت میں ابن مریم ہے یا وہ خدا ازلی و ابدی غیر متغیر و قدوس جس پر ہم لوگ ایمان لائے ہیں۔سوئیں اسی خدائے کامل اور صادق کی آپ کو قسم دیتا ہوں کہ آپ ضرور تشریف لائیں ضرور آئیں۔اگر وہ قتسم آپ کے دل پر مؤثر نہیں تو پھر اتمام الزام کی نیت سے آپ کو حضرت مسیح کی قسم ہے کہ آپ آنے میں ذرا توقف نہ کریں تا حق اور باطل میں جو فرق ہے وہ آپ پر کھل جائے اور جو صادقوں اور کا ذبوں میں مابہ الامتیاز ہے وہ آپ پر روشن ہو جائے۔وَالسَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى بوقت صبح شود هیچو روز معلومت که با که باختهء عشق در شب دیجور من ایستاده ام اینک تو ہم بیاشتاب که تا سیاه شود روئے کاذب مغرور خاکسار آپ کا خیر خواہ مرزا غلام احمد قادیان ضلع گورداسپور ) مکتوبات احمد یہ جلد سوم ۲ تا ۱۰ مکتوبات احمد جلد اول صفحه ۱۰۲ تا صفحه ۱۰۹ مطبوعہ ۲۰۰۸ء) ا ترجمہ۔صبح کے وقت تیرے متعلق دن کی طرح روشن ہو جائے گا کہ اندھیری رات میں کس کے ساتھ تو نے عشق کا کھیل کھیلا ہے۔میں تو یہ کھڑا ہوں تو بھی جلد آجا، تا جھوٹے مغرور کا منہ کالا ہو۔