حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 429 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 429

حیات احمد ۴۲۹ جلد دوم حصہ سوم مصلوب ہو کر مر گیا اور پھر یہ کہ وہ تین بھی ہے اور ایک بھی۔اور انسانِ کامل بھی اور خدائے کامل بھی۔وہ ایسے عقائد کو کیونکر عقل کے مطابق کر سکتے ہیں اور ایسی نئی فلسفی کون سی ہے جس کے ذریعہ سے یہ لغویات معقول ٹھہر سکتے ہیں پھر یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ جب آپ لوگ معقول طور پر اپنے خوش عقیدہ کی سچائی ثابت نہیں کر سکتے تو پھر لاچار ہو کر نقل کی طرف بھاگتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ یہ باتیں ہم نے پہلی کتابوں میں یعنی بائیبل میں دیکھی ہیں۔اسی وجہ سے ہم ان کو مانتے ہیں لیکن یہ جواب بھی سراسر پوچ اور بے معنی ہے کیونکہ ان کتابوں میں ہرگز یہ بات درج نہیں ہے کہ حضرت مسیح خدا کے بیٹے یا خود رَبُّ الْعَالَمین ہیں اور دوسرے لوگ خدا کے بندے ہیں بلکہ بائیبل پر غور کرنے والے خوب جانتے ہیں کہ خدا کا بیٹا کر کے کسی کو پکارنا یہ ان کتابوں کا عام محاورہ ہے بلکہ بعض جگہ خدا کی بیٹیاں بھی لکھی ہیں۔اور ایک جگہ یہ بھی لکھا ہے کہ تم سب خدا ہو۔تو پھر اس حالت میں حضرت مسیح کی کیا خصوصیت رہی؟ ماسوا اس کے کہ ہر ایک عاقل جانتا ہے کہ منقولات اور اخبار میں صدق اور کذب اور تغیر اور تبدل کا احتمال ہے۔خصوصا جو جو صدمات عیسائیوں اور یہودیوں کی کتابوں کو پہنچے ہیں۔اور جن جن خیانتوں کا اور تحریفوں کا انہوں نے اقرار کر لیا ہے ان وجوہ سے یہ احتمال زیادہ تر قوی ہو جاتا ہے۔اور یہ بھی آپ کو سوچنا چاہئے کہ اگر ہر یک تحریر بغیر ثبوت باضابطہ کے قابل اعتبار ٹھہر سکتی ہے تو پھر آپ لوگ ان قصوں کو کیوں معتبر نہیں سمجھتے کہ جو ہندؤوں کے پستکوں میں رام اور کرشن اور برہما اور بشن وغیرہ کے معجزات کی نسبت اور ان کے بڑے بڑے کاموں کے بارہ میں اب تک لکھے ہوئے پائے جاتے ہیں۔جیسے مہادیو کی لٹوں سے گنگا کا نکلنا اور مہادیو کا پہاڑ کو اٹھا لینا اور ایسا ہی ارجن کے بھائی راجہ بھیم کے مقابل پر مہادیو کا گشتی کے لئے آنا جس کی پرانوں میں یہ کتھا لکھی ہے مہادیو پلہنسی کا روپ دہار کر راجہ بھیم کے سامنے آ کھڑے ہوئے۔بھیم نے چاہا کہ ان سے لڑے۔مہادیو جی بھاگ نکلے۔بھیم نے ان کا پیچھا کیا۔تب وہ زمین میں گھس گئے۔بھیم نے یہ دیکھ کر بڑی زور سے ان کی پونچھ پکڑ لی۔اور کہا کہ اب میں نہ جانے دوں گا سو پونچھ اور پچھلا دھڑ تو بھیم کے ہاتھ میں رہ گیا۔اور منہ نیپال کے