حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 428 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 428

حیات احمد ۴۲۸ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلَّيْ عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيم جلد دوم حصہ سوم بعد ما وجب۔آپ کا عنایت نامہ جس پر کوئی تاریخ درج نہیں بذریعہ ڈاک مجھ کو ملا۔آپ نے پہلے تو بے تعلق اپنے خط میں یہ قصہ چھیڑ دیا ہے کہ حقیقت میں خدائے قادر مطلق خالق و مالک ارض و سماسیح ہے اور وہی نجات دہندہ ہے لیکن میں سوچ میں ہوں کہ آپ صاحبوں کی طبیعت کیونکر گوارا کر لیتی ہے ایک آدم زاد، خاکی نہاد، عاجز بندہ کی نسبت آپ لوگ یہ خیال کر لیتے ہیں کہ وہی ہمارا پیدا کنندہ ہے اور رب العالمین ہے یہ خیال آپ کا حضرت مسیح کی نسبت ایسا ہی ہے جیسے ہندو لوگ راجہ رام چندر کی نسبت رکھتے ہیں۔صرف اتنا فرق ہے کہ ہندو لوگ کشلیا کے بیٹے کو اپنا پر میشر بنا رہے ہیں اور آپ حضرت مریم صدیقہ کے صاحبزادہ کو۔نہ ہندوؤں نے کبھی ثابت کر دکھایا کہ زمین و آسمان میں کوئی ٹکڑا کسی مخلوق کا رام چندر یا کرشن نے پیدا کیا ہے اور نہ آج تک آپ لوگوں نے حضرت مسیح کی نسبت کچھ ایسا ثبوت دیا۔افسوس کہ جو قو تیں عقل اور ادراک فہم و قیاس کی آپ صاحبوں کی فطرت کو عطا کی گئیں تھیں آپ لوگوں نے ایک ذرا ان کا قدر نہیں کیا۔اور علوم طبعی اور فلسفی کو پڑھ پڑھا کر ڈبو دیا اور عقلی علوم کی روشنی آپ لوگوں کے دلوں پر ایک ذرا نہ پڑی۔سادگی اور نا سمجھی کے زمانہ میں جو کچھ گھڑا گیا انہیں باتوں کو آپ لوگوں نے اب تک اپنا دستورالعمل بنا رکھا ہے۔کاش اس زمانہ میں دو چار دن کے لئے حضرت مسیح اور راجہ رام چندر اور کرشن و بدھ وغیرہ کہ جن کو مخلوق پرستوں نے خدا بنایا ہوا ہے پھر دنیا میں اپنا درشن کرا جاتے تا خود ان لوگوں کا انصاف دلی ان کو ملزم کرتا کہ کیا ان آدم زادوں کو خدا خدا کر کے پکارنا چاہئے؟ اور تعجب تو یہ ہے کہ باوجود ان تمام رسوائیوں کے جو آپ لوگوں کے عقائد میں پائی جاتی ہیں پھر آپ لوگ یہ دعوی کرتے ہیں کہ ہمارے عقائد عقل کے موافق ہیں۔میں حیران ہوں کہ جن لوگوں کے یہ اعتقاد ہیں کہ خدا تعالیٰ نے اپنا قدیمی اور غیر متغیر جلال چھوڑ کر ایک عورت کے پیٹ میں حلول کیا اور ناپاک راہ سے تولد پایا اور دکھ اور تکلیف اٹھاتا رہا اور