حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 430
حیات احمد ۴۳۰ جلد دوم حصہ سوم پہاڑ میں جا نکلا اسی وجہ سے منہ کی پوجانیپال میں ہوتی ہے اور پونچھے اور پچھلے دھڑ کی کدار ناتھ میں۔اب دیکھئے کہ جو کچھ عقیدہ آپ نے بنا رکھا ہے کہ گویا خدا تعالیٰ کی روح حضرت مریم کے رحم میں گھس گئی اور گھنے کے بعد اس نے ایک نیا روپ دہار لیا جس سے وہ کامل خدا بھی بنے رہے اور کامل انسان بھی ہو گئے۔کیا یہ قصہ بھیم اور مہادیو کے قصہ سے کچھ کم ہے۔پھر آپ یہ بھی دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم کو مسیح کے کفارہ پر ایمان لانے سے نجات حاصل ہو گئی ہے مگر میں آپ لوگوں میں نجات کی کوئی علامت نہیں دیکھتا اور اگر میں غلطی پر ہوں تو آپ مجھ کو بتلائیں کہ وہ کون سے انوار و برکات اور قبولیتِ الہی کے نشان آپ لوگوں میں پائے جاتے ہیں جن سے دوسرے لوگ محروم رہے ہوئے ہیں میں اس بات کو مانتا ہوں کہ ایمانداروں اور بے ایمانوں اور ناجیوں اور غیر ناجیوں میں ضرور ما بہ الامتیاز ہونا چاہئے مگر پادری صاحب! آپ ناراض نہ ہوں وہ علامات جو ایما ندروں میں ہوتی ہیں اور ہونے چاہئیں جن کو حضرت مسیح علیہ السلام نے بھی دو تین جگہ انجیل میں لکھا ہے وہ آپ لوگوں میں مجھے کو نظر نہیں آتیں بلکہ وہ نشان سچے مسلمانوں میں پائے جاتے ہیں اور انہیں میں ہمیشہ پائے گئے ہیں اور انہیں نشانوں کے ظاہر کرنے لئے اس عاجز نے آپ صاحبان کی خدمت میں رجسٹری کرا کر خط لکھے اور ہیں ہزار اشتہار تقسیم کیا اور کوئی دقیقہ ابلاغ اور اتمام حجت کا باقی نہ رکھا تا خدا کرے کہ آپ لوگوں کو حق کے دیکھنے لئے شوق پیدا ہو اور جو مقبول اور مردود میں فرق ہونا چاہئے وہ آپ بچشم خود دیکھ لیں اور اچھے درختوں کے اچھے پھل اور پھول بذات خود ملاحظہ کر لیں مگر افسوس کہ میری اس قدر سعی اور کوشش سے آپ لوگوں میں سے کوئی صاحب میدان میں نہیں آئے۔اب آپ نے یہ خط لکھا ہے مگر دیکھئے کہ اس کا کیا انجام ہوتا ہے آپ نے اپنے خط میں تین شرطیں لکھی ہیں۔پہلے آپ یہ لکھتے ہیں کہ چھ سو روپیہ یعنی تین ماہ کی تنخواہ بطور پیشگی ہمارے پاس گوجرانوالہ میں بھیجا جاوے اور نیز مکان وغیرہ کا انتظام اس عاجز کے ذمہ رہے اور اگر کسی نوع کی دقت پیش آوے تو فوراً آپ گوجرانوالہ میں واپس آ جاویں گے اور جو روپیہ آپ کو مل چکا ہو اس کو واپس لینے کا استحقاق اس عاجز کو نہیں رہے گا۔یہ پہلی شرط ہے جو آپ نے تحریر فرمائی ہے لیکن گزارش خدمت کیا جا تا ہے کہ روپیہ کسی حالت میں