حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 418 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 418

حیات احمد ۴۱۸ جلد دوم حصہ سوم اس کا مطلب تو یہ ہے کہ ہمارا اصل کام اسلامی انوار و برکات کا دکھلانا ہے اور ایسے مطلب کے لئے رجسٹری شدہ خط بھیجے گئے تھے سو یہ ہمیں ہرگز منظور نہیں کہ اس اصل کام کو ملتوی اور موقوف کر کے اپنی خدمت دینی کو صرف مباحثات و مناظرات تک محدود رکھیں۔ہاں جوشخص اسلامی آیات و برکات کا دیکھنا منظور کر کے ساتھ اس کے عقلی طور پر اپنے شبہات اور وساوس دور کرانا چاہے تو اس قسم کی بحث تو ہمیں بدل و جان منظور ہے بشرطیکہ تہذیب اور شائستگی سے تحریری طور پر بحث ہو جس میں مجلت اور شتاب کاری اور نفسانیت اور ہار جیت کے خیال کا کچھ دخل نہ ہو بلکہ ایک شخص طالب صادق بن کر محض حق جوئی اور راستبازی کی وضع پر اپنی عقدہ کشائی چاہے۔اور دوستانہ طور پر ایک سال تک آسمانی نشانوں کے دیکھنے کے لئے ٹھہر کر ساتھ اس کے نہایت معقولیت سے سلسلہ بحث کا بھی جاری رکھے لیکن افسوس کہ آپ کی تحریر سے یہ بھی پایا جاتا ہے کہ آپ ایسی مہذبانہ بحث کے بھی خواہاں نہیں کیونکہ آپ نے اپنے آخری خط میں یہ بھی لکھا ہے کہ بحث کرنے سے پہلے میری حفاظت کے لئے گورنمنٹ میں مچلکہ داخل کرنا چاہئے یا ایسے صدر مقام حکام میں بحث ہونی چاہیئے جس میں سرکاری رُعب و داب کا خوف ہو۔سو آپ کے ان کلمات سے صاف مترشح ہو رہا ہے کہ آپ اس قسم کی بحث کے ہرگز خواہاں نہیں ہیں۔جو دو شریف آدمیوں میں محض اظہار حق کی غرض سے ہو سکتی ہے۔جس میں نہ کسی کا مچلکہ ( جو ایک معزز آدمی کے لئے موجب ہتک عزت ہے ) داخل سرکار کرانے کی حاجت ہے اور نہ ایسے صدر مقام کی ضرورت ہے جس میں عند الفساد جھٹ پٹ سرکاری فوجیں پہنچ سکیں۔شاید آپ ایسی بحثوں کے عادی ہوں گے لیکن کوئی پاک خیال آدمی اس قسم کی بدبو دار بحثوں کو جو عجلت اور سوء ظن اور ریا کاری اور نفسانیت سے پر ہیں۔ہرگز پسند نہیں کرے گا۔اور اسی اصول پر مجھ کو بھی پسند نہیں۔اور اگر آپ عہد شکنی کر کے فرید کوٹ کی طرف نہ بھاگتے تو یہ باتیں آپ کو زبانی بھی سمجھائی جاتیں۔ہر ایک منصف اور پاک دل آدمی سمجھ سکتا ہے کہ جن مباحث میں پہلے ہی ایسے ایسے سنگین تدارکات کی ضرورت ہے۔ان میں انجام بخیر ہونے کی کب توقع ہے۔سو آپ پر واضح رہے کہ