حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 417 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 417

حیات احمد ۴۱۷ جلد دوم حصہ سوم تک کوئی نشان ظاہر نہ ہو۔تو چوہیں سو روپیہ نقد بطور جرمانہ یا ہرجانہ آپ کو دیا جائے گا۔اور اگر عرصہ مذکورہ میں کوئی نشان دیکھ لیں تو اسی جگہ قادیان میں مسلمان ہو جائیں۔چنانچہ ہم نے آپ کی تسلی کے لئے چوہیں سور و پیہ نقد بھیج دیا۔اور جو ہم پر فرض تھا اس کو پورا کر دکھایا۔تو آپ نے ہماری اس حجت کے اٹھانے کے لئے جو آپ پر وارد ہو چکی تھی کیا کوشش کی۔اگر ہم آپ کے خیال میں جھوٹے تھے تو کیوں آپ نے ہمارے مقابلہ سے منہ پھیر لیا آپ پر واجب تھا کہ قادیان میں ایک سال تک رہ کر اس خاکسار کا جھوٹ ثابت کرتے کیوں کہ اس میں آپ کا کچھ خرچ نہ تھا۔آپ کو چو ہمیں سو روپیہ نقد ملتا تھا مگر آپ نے اس طرف تو رُخ بھی نہ کیا اور یونہی لاف و گزاف کے طور پر اپنے اشتہار میں لکھ دیا کہ جو آسمانی نشانوں کا دعوی ہے یہ بے اصل محض ہے۔منشی صاحب آپ انصافا فرما دیں کہ آپ کو ایسی تحریر سے کیا فائدہ ہوا۔کیا اس سے ثابت ہو گیا کہ ہم در حقیقت اپنے دعوی میں جھوٹے ہیں۔آپ نے یہ بھی خیال نہ کیا کہ ایک شخص تو اپنی تائید دعوئی میں اس قدر اپنا صدق دکھلا رہا ہے کہ اگر کوئی اس کا جھوٹا ہونا ثابت کرے تو وہ چوبیس سو روپیہ نقد اس کو دیتا ہے۔اور آپ اس کی آزمائش دعوی سے تو کنارہ کش۔مگر یونہی اپنے منہ سے کہے جاتے ہیں کہ یہ شخص اپنے دعوی میں صادق نہیں ہے۔یہ کس قدر دور از انصاف و ایمانداری ہے آپ نے کچھ سوچا ہوتا کہ منصف لوگ آپ کو کیا کہیں گے۔رہا یہ الزام آپ کا کہ گو یا اول ہم نے اپنے خط میں بحث کو منظور کیا۔پھر دوسرے خط میں نامنظوری ظاہر کی۔یہ بات بھی سراسر آپ کا ایجاد ہے۔اس عاجز کے بیان میں جس میں آپ نے کھینچ تان کر کچھ کا کچھ بنا لیا ہے کسی نوع کا اختلاف یا تناقض نہیں کیونکہ میں نے اپنے آخری خط میں جو مطبع صدیقی میں چھپا ہے جس کا آپ حوالہ دیتے ہیں کسی ایسی بحث سے ہرگز انکار نہیں کیا جس کی نسبت اپنے پہلے خط میں رضا مندی ظاہر کی تھی بلکہ اس آخری خط میں صرف یہ کہا ہے کہ اگر آپ آسمانی نشانوں کے مشاہدہ کے لئے نہیں بلکہ صرف مباحثہ کے لئے آنا چاہتے ہیں تو اس امر سے میری خصوصیت نہیں مجرد بحثوں کے لئے اور علماء بہت ہیں تو اس تقریر سے انکار کہاں سمجھا جاتا ہے۔۔