حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 419 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 419

حیات احمد ۴۱۹ جلد دوم حصہ سوم اس عاجز نے نہ کسی اپنے خط میں صرف مجرد بحث کو منظور کیا اور نہ ایسی دور از تہذیب بحث پر رضا مندی ظاہر کی جس میں پہلے ہی مجرموں کی طرح مچلکہ داخل کرنے کے لئے انگریزی عدالتوں میں حاضر ہونا پڑے۔اور پھر ہم میں اور آپ میں بٹیروں اور مرغوں کی طرح لڑائی ہونا شروع ہو اور لوگ اردگرد سے جمع ہو کر اس کا تماشہ دیکھیں اور ایک ساعت یا دو ساعت کے عرصہ میں کسی فریق کے صدق یا کذب کا سب فیصلہ ہو کر دوسرا فریق فتح کا نقارہ بجاوے۔نَعُوْذُ بِاللَّهِ مِنْ ذَلِكَ ایسی پُر فتنہ اور پُر خطر بحثیں جن میں فساد کا اندیشہ زیادہ اور احقاق حق کی امید کم ہے کب کسی شریف اور منصف مزاج کو پسند آ سکتی ہیں اور ایسی پر عجلت بحثوں سے حق کے طالب کیا نفع اٹھا سکتے ہیں۔اور منصفوں کو رائے ظاہر کرنے کا کیونکر موقعہ مل سکتا ہے۔اگر آپ کی نیت بخیر ہوتی تو آپ اس طرز کی بحثوں سے خود گریز کرتے اور ایک سال تک ٹھہر کر معقولیت اور شائستگی اور تہذیب سے شریفانہ بحث کا سلسلہ تحریری طور پر جاری رکھتے۔اور مہذ ہب اور شریف اور ہر ایک قوم کے عالم فاضل جو اکثر اس جگہ آتے رہتے ہیں ان پر بھی آپ کی بحثوں کی ،حقیقت کھلتی رہتی مگر افسوس کہ آپ نے ایسا نہیں کیا بلکہ قادیان میں آنے کے لئے (جو آپ کی نظر میں گویا ایک یاغستان ہے یا جس میں بزعم آپ کے ہندو بھائی آپ کے بکثرت نہیں رہتے ) اول یہ شرط لگائی کہ یہ عاجز آپ کی حفاظت کے لئے گورنمنٹ میں مچلکہ داخل کرے۔ایسی شرط سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ اپنی بحث میں ایسی دور از تہذیب گفتگو کرنا چاہتے ہیں جس کی نسبت آپ کو پہلے ہی خطرہ ہے کہ وہ فریق ثانی کے اشتعال طبع کا ضرور موجب ہو گی تب ہی تو آپ کو یہ فکر پڑی کہ پہلے فریق ثانی کا مچلکہ سرکار میں داخل ہونا چاہئے تا آپ کو ہر ایک طور کی تحقیر اور توہین کرنے کے لئے وسیع گنجائش رہے۔اب قصہ کوتاہ یہ کہ یہ عاجز اس قسم کی بحثوں سے سخت بیزار ہے۔اور جس طور کی بحث یہ عاجز منظور رکھتا ہے وہ وہی ہے جو اس سے اوپر ذکر کی گئی۔اگر آپ طالب صادق ہیں تو آپ کو آپ کے پر میشر کی قسم دی جاتی ہے کہ آپ ہمارے مقابلہ سے ذرا کو تا ہی نہ کریں۔آسمانی نشانوں کے دیکھنے کے لئے قادیان میں آکر ایک سال تک ٹھہر ہیں۔اور اس عرصہ میں جو کچھ