حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 416
حیات احمد عہد ۴۱۶ جلد دوم حصہ سوم نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ مشفقی منشی اندر من صاحب ! بعد ما وجب آپ بُرا نہ مانیں۔آپ کے اشتہار کے پڑھنے سے عجب طرح کی کارستانی آپ کی معلوم ہوئی۔آپ اس عاجز کی نسبت لکھتے ہیں کہ پہلے انہوں نے ( یعنی اس عاجز نے ) مجھ سے بحث کرنے کا وعدہ کیا۔جب میں اسی نیت سے مشقت سفر اٹھا کر لاہور میں آیا تو پھر میری طرف اس مضمون کا خط بھیجا کہ ہم بحث کرنا نہیں چاہتے۔اور مجھ کو ناحق کی تکلیف دی۔اب دیکھئے کہ آپ نے اپنی ہد شکنی اور کنارہ کشی کو چھپانے کے لئے کس قدر حق پوشی اختیار کی اور بات کو اپنی اصلیت سے بدل کر کچھ کا کچھ بنا دیا۔آپ خود ہی انصاف فرماویں کہ جس حالت میں آپ ہی سے یہ بیجا حرکت وقوع میں آئی کہ آپ نے اوّل لاہور میں پہنچ کر اس خاکسار کی طرف اس مضمون کا خط لے لکھا۔کہ میں آسمانی نشانوں کے دیکھنے کے لئے ایک سال تک قادیان ٹھہر نا منظور کرتا ہوں مگر اس شرط سے کہ پہلے چوہیں سو روپیہ نقد میرے لئے بنک سرکاری میں جمع کرایا جائے۔اور اب میں لاہور میں مقیم ہوں اور سات دن تک اس خط کے جواب کا انتظار کروں گا۔پھر جب حسب تحریر آپ کے اندر میعادسات دن کے وہ روپیہ لاہور میں آپ کی خدمت میں بھیجا تو میعاد کے گزرنے سے پہلے ہی آپ فرید کوٹ کی طرف تشریف لے گئے۔تو اب وعدہ خلافی اور کنارہ کشی اور عہد شکنی اور روپوشی آپ سے ظہور میں آئی یا مجھ سے۔اور جبکہ میں نے بمجرد طلب کرنے آپ کے اس قدر رقم کثیر جو چوبیس سو روپیہ ہے۔بنک سرکاری میں جمع کرانے کے لئے پیش کر دی تا بحالت مغلوب ہونے میرے کے وہ سب روپیہ آپ کو مل جائے تو کیا کوئی منصف آدمی گریز کا الزام مجھ کو دے سکتا ہے لیکن آپ فرما دیں کہ آپ کے پاس اس بات کا کیا جواب ہے کہ جس حالت میں آپ کو رجسٹری شدہ خط بھیجا گیا تھا اور لکھا گیا تھا کہ اگر آپ ایک سال تک قادیان میں ٹھہریں تو ضرور خداوند کریم اثبات حقیت اسلام میں کوئی آسمانی نشان آپ کو دکھائے گا۔اور اگر اس عرصہ ا نوٹ۔منشی صاحب اپنے خط میں لکھتے ہیں کہ ( آپ حسب وعدہ مشتہرہ بحساب دوسور و پیہ ماہوار چوبیں سور و پیہ بابت ایک سال بنگ سرکار میں داخل کر دیں) سوناظرین پر واضح ہو کہ اشتہار مشتہر ہ الخ