حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 398
حیات احمد ۳۹۸ جلد دوم حصہ سوم قدر دستگاه پیدا کر لیں جو خدمت دین میں کام آئے پاس فیل سے کوئی تعلق نہیں اور نہ 66 کوئی غرض “ اس واقعہ کے اندر حضرت خلیفہ ثانی کی آئندہ زندگی کے دائرہ عمل کی بھی توضیح ہے میں اس پر یا حضرت کی سیرت کے ان مختلف پہلوؤں پر جو اس سے نکلتے ہیں بحث نہیں کرتا یہ ارشادات میں نے محض ایک تائید کے طور پر پیش کئے ہیں ایک اور موقعہ پر فرمایا تھا کہ ” جب کوئی شخص محض دنیا کے لئے دعا کی دراخواست کرتا ہے طبیعت میں بہت کراہت پیدا ہوتی ہے لیکن جب کوئی درخواست خدا تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے ہوتی ہے۔یا کوئی شخص کسی ابتلاء میں محض دین کی خاطر مبتلا ہوتا ہے یا ستایا جاتا ہے اس وقت دعا کے لئے بے اختیار تحریک ہوتی ہے۔“ وو غرض مرزا سلطان احمد صاحب نے دعا کی درخواست کی آپ نے اظہار کراہت کیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کراہیت کی قدر کر کے دعا کو قبول کر لیا اور مرزا صاحب کامیاب ہو گئے۔اس کا ذکر خود حضرت نے اس طرح فرمایا:۔وو عرصہ تین ماہ یا کچھ کم و بیش ہوا ہے کہ اس عاجز کے فرزند نے ایک خط لکھ کر مجھ کو بھیجا کہ جو میں نے امتحان تحصیلداری کا دیا ہے اس کی نسبت دعا کریں کہ پاس ہو جاوے اور بہت کچھ انکسار اور تذلل ظاہر کیا کہ ضرور دعا کریں۔مجھ کو وہ خط پڑھ کر بجائے رحم کے غصہ آیا کہ اس شخص کو دنیا کے بارے میں کس قدر ہم اور غم ہے چنانچہ اس عاجز نے وہ خط پڑھتے ہی یہ تمام تر نفرت و کراہت چاک کر دیا اور دل میں کہا کہ ایک دنیوی غرض اپنے مالک کے سامنے کیا پیش کروں۔از مکتوبات احمد یہ مکتوب مورخه ارمئی ۱۸۸۳ء بنام نواب علی محمد خانصاحب آف جھجر الحکم ۲۳ /ستمبر ۱۸۹۹ء صفحه )