حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 399
حیات احمد ۳۹۹ جلد دوم حصہ سوم ۱۸۸۵ء کے حالات یہاں تک کہ ۱۸۸۵ء کا آغاز ہوا اور اس کے آغاز کے ساتھ ہی آپ نے اعلامِ الہی سے اتمام حجت کے لئے ایک ایسا اقدام کیا کہ کسی کو اس کے مقابلہ میں آنے کی جرات نہ ہوئی یہ اقدام آپ کا دعوت نشان نمائی کی صورت میں تھا۔دعوت نشان نمائی آپ نے مختلف مذاہب کے لیڈر اور پیشواؤں کو بذریعہ رجسٹر ڈ مطبوعہ خط کے اسلام کے تازہ بتازہ برکات اور آیات کے دیکھنے کی دعوت یکسالہ دی اور اس کو اپنی اور اسلام کی صداقت کے لئے پیش کیا اس خط کے ساتھ آپ نے ایک اشتہار انگریزی اور اردو میں چھپوا کر بھیجا جس میں اپنی ماموریت اور مجد د ہونے کا اعلان تھا۔یہ اشتہار لاہور میں طبع کرایا گیا تھا اور مولوی محمد حسین بٹالوی کے ذریعہ طبع کرایا گیا تھا اس کا انگریزی ترجمہ یہاں تک میری تحقیقات ہے مولوی نجف علی صاحب برادر ڈاکٹر عبد الغنی صاحب جلالپور جٹاں کے ذریعہ کرایا گیا تھا مولوی نجف علی صاحب نے بیعت بھی کر لی تھی اور وہ مرزا خدا بخش صاحب مرحوم کے رفقاء میں سے تھے۔ڈاکٹر عبد الغنی کا بیان ڈاکٹر عبدالغنی صاحب جب کابل چلے گئے تو خطرناک مخالفین کے زمرہ میں کر ہا شریک ہو گئے تھے اور نجف علی صاحب مرتد ہو گئے تھے۔۱۹۲۷ء کے ایام حج میں مجھ کو ڈاکٹر عبدالغنی صاحب سے مکہ معظمہ میں نہ صرف ملاقات ہوئی بلکہ کچھ عرصہ تک ہم ایک ہی مکان میں اکٹھے تھے۔میں نے ان سے حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحب رضی اللہ عنہ کی شہادت کے متعلق دریافت کیا کہ ان کی ذمہ داری اس میں کہاں تک تھی انہوں نے نہایت افسوس کے ساتھ کہا کہ میں کچھ کہنا نہیں چاہتا میں مجبور اور بے بس تھا میرا ہاتھ نہ تھا مگر خاموشی کا مجرم ہوں دعا کرو کہ