حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 397 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 397

حیات احمد ۳۹۷ جلد دوم حصہ سوم انہوں نے حضرت اقدس کو دعا کے لئے لکھا۔لیکن حضرت اقدس کی زندگی کو جن لوگوں نے قریب سے دیکھا ہے اور اس پر غور کیا ہے وہ بخوبی جانتے ہیں کہ دنیا اور اس کے مالوفات کبھی آپ کے پیش نظر نہ تھے۔مرزا سلطان احمد صاحب کی اس دعا کی درخواست کا بھی آپ کے قلب پر اثر ہوا چنا نچہ آپ نے اس خط کو پڑھ کر کراہت سے چاک کر دیا جہاں تک میری تحقیقات ہے یہ خط عصر کی نماز کے قریب آپ کے پاس پہنچا تھا۔اور آپ نماز کے لئے وضو کر رہے تھے۔اس خط کے پڑھنے سے آپ کو بہت نفرت ہوئی اور اس کا باعث ایک ہی تھا کہ دنیا کی اغراض کے لئے دعا کی درخواست کی گئی۔اور اسے چاک کر کے پھینک دیا اور زبان سے بھی آپ نے اس نفرت کا اظہار کیا کہ دینی ترقی کے لئے نہیں بلکہ دنیا کے مقاصد کے لئے دعا چاہتا ہے میں نہیں کروں گا۔خدا تعالیٰ کی شان کریمی کے قربان! مرزا سلطان احمد صاحب نے اس ایمان سے محرک ہو کر جو ان کو حضرت کی دعاؤں کی قبولیت پر تھا خط تحریر کیا۔خدا تعالیٰ نے ان کے حسن ظن کو ضائع نہ کیا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ مقام کہ دنیا کی اغراض کے لئے بیٹے کے واسطے بھی دعا پسند نہ کی۔اللہ تعالیٰ کو باپ اور بیٹے کا یہ فعل پسند آیا اور نماز میں آپ کو بشارت مل گئی کہ پاس ہو جائے گا۔آپ نے مسکرا کر اس کو بیان کیا کہ ہم نے تو دعا نہیں کی مگر خدا تعالیٰ نے کامیابی کی بشارت دے دی چنانچہ اسی کے موافق وہ پاس ہو گئے۔اور ان کی ترقیات کا سلسلہ جاری ہو گیا۔یہ امر کہ حضور کو دنیا کے مالوفات کے لئے دعا سے خوشی نہ ہوتی تھی آپ کے ارشادات سے ثابت ہے اور آپ کے فیض صحبت کے تربیت یافتہ لوگ خوب جانتے ہیں۔ایسا ہی ایک واقعہ حضرت خلیفہ ثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کے متعلق بھی پیش آیا تھا جب آپ نے امتحان انٹر نفیس دیا تو حضرت کی خدمت میں عرض کیا گیا کہ آپ دعا کریں کہ یہ پاس ہو جائیں آپ نے فرمایا۔ہمیں تو ایسی باتوں کی طرف توجہ کرنے سے کراہت پیدا ہوتی ہے ہم ایسی باتوں کے لئے دعا نہیں کرتے ہم کو نہ نوکریوں کی ضرورت ہے اور نہ ہمارا یہ منشاء ہے کہ امتحان اس غرض سے پاس کئے جاویں ہاں اتنی بات ہے کہ یہ علوم متعارفہ میں کسی