حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 392 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 392

حیات احمد ۳۹۲ جلد دوم حصہ سوم لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا کا ایک عملی نظارہ چونکہ لودہا نہ اس مخالفت کا مرکز تھا اور میر عباس علی صاحب کچھ کمزور طبیعت کے واقع ہوئے تھے ان پر اس کا بہت بُرا اثر تھا باوجود یکہ حضرت اقدس نے ان کو تازہ بتازہ بشارتوں سے اطلاع دی تھی مگر میر صاحب کو اس مخالفت سے سخت گھبراہٹ پیدا ہو رہی تھی چنانچہ انہوں نے حضرت اقدس کو ایک خط لکھا جس میں مخالفت کی شدت اور اپنی گھبراہٹ کا ذکر تھا۔یہ مکتوب ۱۲۱ اور ۲۴ / فروری ۱۸۸۴ء کے درمیان لکھا گیا تھا آپ نے ۲۶ فروری ۱۸۸۴ء مطابق ۱۷ ربیع الثانی ۱۳۰۹ھ کو اس کے جواب میں لکھا کہ بقیہ حاشیہ:۔سو آپ کو میں مطلع کرتا ہوں کہ جس شخص نے ایسا اعتراض کیا ہے اس نے خود غلطی کھائی ہے۔اور معلوم ہوتا ہے کہ وہ نحو اور صرف سے آپ ہی بے خبر ہے کیوں کہ عبارت کا سیاق دیکھنے سے معلوم ہوگا کہ مریم سے مریم ام عیسیٰ مراد نہیں۔اور نہ آدم سے آدم ابوالبشر مراد ہے اور نہ احمد سے اس جگہ خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم مراد ہیں۔اور ایسا ہی ان الہامات کے تمام مقامات میں کہ جو موسیٰ اور عیسی اور داؤد وغیرہ نام بیان کئے گئے ہیں ان ناموں سے بھی وہ انبیاء مراد نہیں ہیں۔بلکہ ہر یک جگہ یہی عاجز مراد ہے اب جبکہ اس جگہ مریم کے لفظ سے کوئی مؤنث مراد نہیں ہے بلکہ مذکر مراد ہے تو قاعدہ یہی ہے کہ اس کے لئے صیغہ مذکر ہی لایا جائے۔یعنی مَرْيَمُ اسْكُنْ کہا جائے نہ یہ کہ یا مَرْيَمُ اسْكُنِی ہاں اگر مریم کے لفظ سے کوئی مؤنث مراد ہوتی تو پھر اس جگہ اُسکنی آتا۔لیکن اس جگہ تو صریح مریم مذکر کا نام رکھا گیا اس لئے برعایت مذکر ، مذکر کا صیغہ آیا اور یہی قاعدہ ہے کہ جونو یوں اور صرفیوں میں مسلّم ہے اور کسی کو اس میں اختلاف نہیں ہے اور زوج کے لفظ سے رفقاء اورا قرباء مراد ہیں۔زوج مرا دنہیں ہے۔اور لغت میں یہ لفظ دونوں طور پر اطلاق پاتا ہے۔اور جنت کا لفظ ، اس عاجز کے الہامات میں کبھی اُسی جنت پر بولا جاتا ہے کہ جو آخرت سے تعلق رکھتا ہے۔اور کبھی دنیا کی خوشی اور فتح یابی اور سرور اور آرام پر بولا جاتا ہے۔اور یہ عاجز اس الہام میں کوئی جائے گرفت نہیں دیکھتا۔(۲۱ فروری ۱۸۸۴ء مطابق ۲۲ ربیع الثانی ۱۳۰۱ھ۔مکتوبات احمد یہ جلد اول صفحہ ۸۲ مکتوبات احمد جلد اصفحه۵۹۹ مطبوعہ ۲۰۰۸ء)