حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 393
حیات احمد ۳۹۳ جلد دوم حصہ سوم آں مخدوم کا خط بعد واپسی از امرتسر مجھ کو ملا۔آں مخدوم کچھ تفکر و تر ڈد نہ کریں اور یقیناً سمجھیں کہ وجود مخالفوں کا حکمت سے خالی نہیں۔بڑی برکات ہیں کہ جن کا ظاہر ہونا معاندوں کے عنادوں پر ہی موقوف ہے۔اگر دنیاوی معاند اور حاسد اور موذی نہ ہوتے تو بہت سے اسرار اور برکات مخفی رہ جاتے۔کسی نبی کے برکات کامل طور پر ظاہر نہیں ہوئے جب تک وہ کامل طور پر ستایا نہیں گیا اگر لوگ خدا کے بندوں کو جو اس کی طرف سے مامور ہو کر آتے ہیں یونہی اُن کی شکل دیکھ کر قبول کر لیتے تو بہت عجائبات تھے کہ ان کا ہرگز دنیا میں ظہور نہ ہوتا۔“ مکتوبات احمد یہ جلد اول صفحہ ۷۳۔مکتوبات احمد جلد اصفحه ۵۹۸ مطبوعه ۲۰۰۸ء) اس طرح پر آپ نے اطمینان اور سکینت کی ایک رو میر عباس علی صاحب کے قلب میں بھی ڈال دی مجھے اس پر زیادہ کچھ کہنے کی ضرورت نہیں کہ آپ ابتدا ہی سے اپنی دعوت کو عــلــى مـنـهـاج النبوة یقین کرتے تھے۔غرض مخالفت کا یہ سلسلہ جاری رہا مگر آپ نے کبھی اور کسی حال میں اس کو درخورِ اعتنا نہ سمجھا ہاں اگر کوئی اعترض اور غلط نہی دشمن نے پیدا کرنی چاہی تو آپ نے اس کا فور أجواب دیا۔ان ایام کے مشاغل براہین احمد یہ جیسا کہ میں لکھ چکا ہوں ہر چہار جلد میں تیار ہوگئی تھیں۔اور خریداروں کو آپ بھیج رہے تھے اس عرصہ میں بعض نئے خریدار بھی پیدا ہو رہے تھے آپ ان ایام میں اس امر سے بھی غافل نہیں رہتے تھے کہ جو لوگ آپ سے مخلصانہ تعلق اور ارادت رکھتے تھے وقتاً فوقتاً ان کی اخلاقی اور روحانی اصلاح کی طرف متوجہ ہوں۔اور جہاں کسی شخص کے کسی عمل میں کوئی ایسی بات آپ محسوس فرماتے جو اس کے عمل کو ضائع اور باطل کر دے گی آپ اس کو نہایت شفقت اور حکیمانہ انداز سے اس کی طرف توجہ دلاتے اور اس کے لئے کبھی کسی دوسری فرصت اور موقع کے منتظر نہ رہتے بلکہ جونہی ایک بیماری کا احساس فرمایا اس کے علاج کی طرف متوجہ ہو گئے۔اس کی ایک مثال انہیں ایام کی میر عباس علی صاحب کے متعلق ہے جیسا کہ اوپر کے بیانات سے ظاہر ہے