حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 391 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 391

حیات احمد ۳۹۱ پہلا علمی اعتراض اور اس کا جواب جلد دوم حصہ سوم چنانچہ اس سلسلہ میں سب سے پہلا اعتراض آپ کے الہام يَا مَرْيَمُ اسْكُنْ “ پر کیا گیا اور بڑے دعوئی اور قوت سے اسے پیش کیا گیا کہ یہ نحوی قواعد کے لحاظ سے غلط ہے اسگن نہیں بلکہ اُسْكُنِی چاہئے بظاہر اعتراض بڑا وزن دار معلوم ہوتا تھا۔یہ اعتراض لو د ہانہ میں کیا گیا جیسے ان ایام میں لودہانہ کو نصرت و تائید کا یگانہ امتیاز حاصل تھا مخالفت کی شدت بھی وہاں ہی تھی۔مخالف علماء نے اس اعتراض کو نہایت قوت اور شدت سے پھیلایا جناب میر عباس علی صاحب کو اس پر بڑی گھبراہٹ ہوئی اسی سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایک کمزور ایمان کے انسان تھے ورنہ جبکہ وہ یہ جانتے تھے کہ یہ الہامِ ربانی ہے تو کسی شخص کے صرفی نحوی اعتراضات کی کیا کچھ وقعت رہتی انہوں نے اس گھبراہٹ میں حضرت اقدس کو ایک خط لکھا جس میں اسی گھبراہٹ کا اظہار کیا گیا۔اس وقت آپ امرتسر ہی میں مقیم تھے۔اور حکیم محمد شریف صاحب کے ہاں ہی قیام تھا ایسے موقعہ پر حضرت اقدس کا یہ معمول تھا کہ معترضین کے ازالہ وہم کی فوری کوشش کرتے تھے۔بلکہ آپ اکثر فرمایا کرتے کہ اگر کسی کے دل میں کوئی اعتراض پیدا ہو تو فوراً اس کو پیش کر کے جواب لینا چاہئے۔اور اعتراض کو ایسا سمجھنا چاہئے جیسے کسی کے اندر قے کی تحریک ہوتی ہے۔اور مواد رڈ یہ اس کے ذریعہ سے خارج ہو جاتا ہے آپ نے فوراً میر عباس علی صاحب کو اس کا جواب لکھ کر روانہ کر دیا تمہیں حلا حاشیہ۔میں اصل مکتوب کو اس لئے درج کرتا ہوں تا کہ قارئین کرام کو دونوں باتیں معلوم ہو جاویں۔آپ کا طرز عمل اور طریق استدلال بلکہ اِس سے اُس بصیرت اور ایمان کا پتہ لگتا ہے جو آپ کو خدا کی اس وحی پر تھا۔بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم - مخدومی مکر می اخویم میر عباس علی شاہ صاحب سلّمۂ تعالی۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ۔بعد ہذا آں مخدوم کا عنایت نامہ بذریعہ محمد شریف صاحب مجھ کو ملا۔سو آپ کو میں اطلاع دیتا ہوں کہ میں نے حصہ سوئم و چہارم بخدمت علماء دہلی بھیج دیئے ہیں۔آپ نے جو لکھا ہے کہ چوتھے حصے کے صفحہ ۴۹۶ پر مخالف اعتراض کرتے ہیں۔آپ نے مفصل نہیں لکھا کہ کیا اعتراض کرتے ہیں صرف آپ نے یہ لکھا ہے کہ يَا مَرْيَمُ اسْكُن میں نحوی غلطی معلوم ہوتی ہے۔اسگن کی جگہ انگنی چاہئے تھا۔