حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 386 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 386

حیات احمد ۳۸۶ جلد دوم حصہ سوم تھا اور یہ مقام اس وقت سو جان پور ضلع گورداسپور تجویز ہوا تھا اور معلوم ایسا ہوتا ہے کہ ستمبر ۱۸۸۴ء میں آپ جانا چاہتے تھے چنانچہ اس بارہ میں حضرت منشی عبداللہ صاحب نے خط لکھا تو جواب دیا وہ خط مع منشی صاحب کے نوٹ کے درج ذیل ہے۔پوسٹ کارڈ مشفقی مکرمی اخویم میاں عبداللہ صاحب سلمہ بعد سلام مسنون آپ کا عنایت نامہ پہنچا۔ابھی تک باعث بعض موانع یہ عاجز قادیان میں ہے سو جانپور کی طرف نہیں گیا۔اور بوجہ علالت وضعف طبیعت ابھی ہندوستان کی سیر میں تامل ہے شاید اگر خدا تعالیٰ نے چاہا تو یہ بات موسم سرما میں میسر آجائے ہر ایک امر اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے کبھی کبھی اپنے حالات سے مطلع فرماتے رہیں۔خواب آپ کی انشاء اللہ بہت عمدہ ہے کہ بعض نفسانی الا یشوں سے پاک ہونے کی طرف اشارہ ہے وَاللهُ أَعْلَم خاکسار۔غلام احمد از قادیان - ۷ ستمبر ۱۸۸۴ء مکتوبات احمد یہ جلد پنجم نمبر پنجم صفحه ۱۴۸) (نوٹ) سو جان پور کی طرف تشریف لے جانے کا ارادہ حضور کا اس بناء پر تھا کہ حضور کو ان ایام میں یہ خواہش تھی کہ کسی ایسی جگہ چلے جائیں جہاں نہ ہم کسی کو جانتے ہوں۔نہ ہمیں کوئی جانتا ہو۔اس پر جناب مولوی عبداللہ صاحب نے حضور کی خدمت میں درخواست کی حضور اس خاکسار ( مولوی عبداللہ صاحب) کو بھی اپنے ہمراہ لے جائیں۔حضور نے مولوی عبداللہ صاحب کی اس درخواست کو منظور فرمالیا اسی بناء پر مولوی عبد اللہ صاحب کے اس خط کے جواب میں حضور نے تحریر فرمایا کہ ابھی تک باعث بعض موانع یہ عاجز قادیان میں ہے۔سو جان پور کے طرف نہیں گیا اسی اثناء میں حضور کو اللہ تعالیٰ کے طرف سے یہ الہام ہوا کہ ” تمہاری عقدہ کشائی ہوشیار پور میں ہو گی اس لئے حضور نے سو جانپور کی طرف جانے کا ارادہ ملتوی کر کے ہوشیار پور جانے کا ارادہ فرمالیا۔چنانچہ اسی بناء پر حضور شروع جنوری ۱۸۸۶ء میں مولوی عبداللہ صاحب، حافظ حامد علی صاحب اور ایک شخص (فتح خاں نام ) کو اپنے ہمراہ لے کر سیدھے ہوشیار پور کو روانہ ہو گئے اور