حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 387
حیات احمد ۳۸۷ جلد دوم حصہ سوم وہاں پہنچ کر شیخ مہر علی صاحب رئیس ( جو اس وقت حضور سے محبت اور اخلاص رکھتے تھے ) کے طویلہ میں جا کر چالیس روز تک ایک بالا خانہ میں بالکل الگ رہے حضور کے ہرسہ خدام رفقاء اسی طویلہ میں نیچے کے حصہ میں الگ رہتے تھے۔چنانچہ وہاں حضور نے چلہ کشی کی۔اور پھر ۲۰ روز وہاں اور ٹھہر کر مارچ ۱۸۸۶ء میں واپس قادیان کو تشریف لائے۔ہندوستان کی سیر ۱۸۸۹ء میں آکر حضور نے صرف اس قدر کی کہ لد ہیانہ میں بیعت لینے کے بعد علی گڑھ تشریف لے گئے اور وہاں ایک ہفتہ کے قریب سید تفضل حسین صاحب تحصیلدار کے ہاں ٹھہر کر وہاں سے پھر لد ہیا نہ تشریف لائے۔آپ کے دل میں صداقت اسلام کا ایک جوش تھا اور وہی تڑپ مختلف اوقات میں کشود کار کے لئے بے قرار رکھتی تھی ۱۸۸۴ء کی آخری سہ ماہی میں آپ کی صحت اچھی نہ رہی اور مختلف عوارض کی وجہ سے ضعف بڑھتا گیا۔لیکن اس ضعف کے بعد ایک عظیم الشان کارنامہ ظہور میں آنے والا تھا۔جس کا ذکر ۱۸۸۵ء کے واقعات میں آتا ہے۔۱۸۸۴ء کے متفرق واقعات حضرت اقدس کا سفر امرتسر حضرت اقدس جیسا کہ آپ نے ۱۳ / فروری ۱۸۸۴ء کے مکتوبات میں تحریر فرمایا تھا امرتسر تشریف لے گئے آپ کا یہ سفر براہین احمدیہ کی طباعت کے سلسلہ میں تھا۔ان ایام میں جب آپ امرتسر تشریف لے جاتے تو معمولاً حکیم محمد شریف صاحب کلانوری کے ہاں قیام فرمایا کرتے تھے حکیم صاحب کو آپ کے ساتھ محبت و اخلاص تھا اور حضرت اقدس بھی ان کے اخلاص کی وجہ سے پسند فرماتے تھے کہ ان کے پاس ہی قیام کریں اگر چہ امرتسر کے بعض رؤسا جن کے آپ کے خاندان سے مراسم تھے چاہتے تھے کہ آپ ان کے یہاں قیام کریں لیکن چونکہ آپ متکلف طبیعت نہ رکھتے تھے اور دنیا داروں سے گونہ اجتناب رکھتے تھے اس لئے حکیم صاحب کے ہاں قیام