حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 30
حیات احمد براہین احمدیہ کیونکر تصنیف ہوئی جلد دوم حصہ اوّل یہ امر بھی قابل بیان ہے کہ براہین احمدیہ کی تصنیف کیونکر ہوئی ہے ساری کتاب کا مسودہ ایک مرتبہ لکھا گیا اور پھر کتاب پریس میں دی گئی یا آپ ساتھ ساتھ لکھتے تھے اور کا تب بھی کتابت کرتا جاتا تھا۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد ایدہ اللہ الاحد نے اپنی تحقیقات سیرت المہدی صفحه ۹۳ پر جو روایت لکھی ہے اس میں تحریر فرمایا ہے کہ : " جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ۱۸۷۹ء میں براہین کے متعلق اعلان فرمایا تو اس وقت براہین احمدیہ تصنیف فرما چکے تھے اور کتاب کا حجم قریباً دو اڑھائی ہزار صفحہ تک پہنچ گیا تھا اور اس میں آپ نے اسلام کی صداقت میں تین سو ایسے زبردست دلائل تحریر کئے تھے کہ جن کے متعلق آپ کا دعویٰ تھا کہ ان سے صداقت اسلام آفتاب کی طرح ظاہر ہو جائے گی اور آپ کا پکا ارادہ تھا کہ جب اس کے شائع ہونے کا انتظام ہو تو کتاب کو ساتھ ساتھ اور زیادہ مکمل فرماتے جاویں اور اس کے شروع میں ایک مقدمہ لگائیں اور بعض اور تمہیدی باتیں لکھیں اور ساتھ ساتھ ضروری حواشی بھی زائد کرتے جاویں چنانچہ اب جو براہین احمدیہ کی چار جلدیں شائع شدہ موجود ہیں ان کا مقدمہ اور حواشی وغیرہ سب دورانِ اشاعت کے زمانہ کے ہیں اور اس میں اصل ابتدائی تصنیف کا حصہ بہت ہی تھوڑا آیا ہے یعنی صرف چند صفحات سے زیادہ نہیں اس کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ تین سو دلائل جو آپ نے لکھے تھے ان میں سے مطبوعہ براہین احمدیہ میں صرف ایک ہی دلیل بیان ہوئی ہے اور وہ بھی نامکمل طور پر۔ان چار حصوں کے طبع ہونے کے بعد اگلے حصص کی اشاعت خدا کے تصرف کے ماتحت رک گئی اور سنا جاتا ہے کہ بعد میں اس ابتدائی تصنیف کے مسودے بھی کسی وجہ سے جل کر تلف ہو گئے۔“ سیرت المہدی جلد اوّل روایت نمبر ۱۲۳ صفحه ۱۰۰٬۹۹ مطبوعه ۲۰۰۸ء)