حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 31 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 31

حیات احمد ۳۱ جلد دوم حصہ اول یہ حضرت صاحب زادہ صاحب کی تحقیقات ہے میں حضرت صاحبزادہ صاحب کی تحقیقات کے متعلق کچھ نہیں لکھنا چاہتا اسے من و عن درج کر دیا ہے۔ہاں میری تحقیقات کا نتیجہ دوسرا ہے۔بظاہر اس میں اختلاف نظر آتا ہے مگر بالاخر میں نے بتا دیا ہے کہ میری اور صاحبزادہ صاحب کی تحقیقات ایک نقطہ پر آ ٹھہرتی ہے۔میرا نظریہ یہ ہے کہ حضرت اقدس ساتھ ساتھ تصنیف فرماتے تھے۔جیسا کہ میں نے کسی دوسری جگہ آپ کے طریق عمل کے متعلق لکھا ہے اس کے علاوہ میرے پاس بعض تائیدی شواہد ہیں اول یہ کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا عام طریق تصنیف یہ تھا کہ کا تب کو ساتھ ساتھ مسودہ لکھ کر دیتے تھے چند تصانیف میری قادیان میں موجودگی میں طبع ہوئی ہیں ان کے متعلق میں نے اسی معمول کو دیکھا۔اس کے علاوہ حضرت مولوی عبدالکریم صاحب رضی اللہ عنہ نے جب الحکم میں آپ کی سیرۃ پر ایک سلسلہ خطوط شائع کیا جس کو بعد میں سیرۃ مسیح موعود کے نام سے میں نے علیحدہ بھی شائع کیا اس میں آپ نے تبلیغ کی تصنیف کے ایام کا ایک واقعہ لکھا ہے جس کو میں سیرۃ مسیح موعود حصہ اول کے صفحہ ١٠٠ میں درج کر چکا ہوں اس میں حضرت مولوی صاحب تبلیغ کے ایک دو ورقہ کا ذکر کرتے ہیں جو حضرت حکیم الامت کو دیا گیا اور ان سے وہ گم ہو گیا اس پر وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے کسی سے کہا کہ آج حضرت نے مضمون نہیں بھیجا اور کا تب سر پر کھڑا ہے۔یہ واقعہ حضرت کے طریق عمل کی مزید تائید ہے لیکن میں ایک اور عجیب تائید پیش کرتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے آخری ایام میں بعض کتب زیر تصنیف تھیں اور وہ حضور کی وفات کے بعد شائع ہوئی تھیں۔وہ بدستور نامکمل شائع کی گئی ہیں۔اگر آپ کا طریق عمل کل مسودہ کتاب کو پہلے سے تیار کر لینا ہوتا تو کچھ شک نہیں یہ کتا بیں نامکمل شائع نہ کی جاتیں۔منجملہ ان کتابوں کے خود براہین احمدیہ حصہ پنجم ہے اس کا نام ابتداء میں نصرۃ الحق تھا چنانچہ حضرت نے دیباچہ براہین احمدیہ حصہ پنجم میں تحریر فرمایا کہ : اس حصہ پنجم کے وقت جو نصرت حق ظہور میں آئی ضرور تھا کہ بطور شکر گزاری