حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 29
حیات احمد ۲۹ جلد دوم حصہ اول مطابع کی نسبت ہم کو اس مطبع میں بہت زیادہ حق الطبع دینا پڑتا ہے تب بھی انہیں کا مطبع پسند کیا گیا اور آئندہ اُمید قوی ہے کہ ان کی طرف سے حصہ چہارم کے چھپنے میں کوئی توقف نہ ہو۔صرف اُس قدر توقف ہو گی کہ جب تک کافی سرمایہ اس حصہ کے لئے جمع ہو جائے سو مناسب ہے کہ ہمارے مہربان خریدار اب کی طرح اُس حصہ کے انتظار میں مضطرب اور متر ڈد نہ ہوں جبہی وہ چھپے گا خواہ جلدی اور خواہ کچھ دیر سے جیسا خدا چاہے گا فی الفور تمام خریداروں کی خدمت میں بھیجا جائے گا۔اور اس جگہ ان تمام صاحبوں کی توجہ اور اعانت کا شکر کرتا ہوں جنہوں نے خالصا للہ حصہ سوم کے چھپنے کے لئے مدد دی۔اور یہ عاجز خاکساراب کی دفعہ ان عالی ہمت صاحبوں کے اسماء مبارک لکھنے سے اور نیز دوسرے خریداروں کے اندراج نام سے بوجہ عدم گنجائش اور باعث بعض مجبوریوں کے مقصر ہے۔لیکن بعد اس کے اگر خدا چاہے گا اور نیت درست ہوگی تو کسی آئندہ حصہ میں یہ تفصیل تمام درج کئے جائیں گے۔(روحانی خزائن جلد اصفحہ ۳۱۲،۱۳۱) اس کے بعد جلد چہارم کی اشاعت میں برابر تین سال کا وقفہ ہو گیا اور وہ۱۸۸۴ء سے پیشتر شائع نہ ہو سکی۔اس کے وجوہات و اسباب میں سے بڑی وجہ جو عام اسباب کے ماتحت بیان کی جاسکتی ہے اس کتاب کے لئے مستقل سرمایہ کا نہ ہونا تھا جیسا کہ تیسری جلد کی اشاعت میں توقف کے عذر میں حضرت نے صاف طور پر لکھ بھی دیا کہ :- آئندہ امید قوی ہے کہ ان کی طرف سے حصہ چہارم کے چھپنے میں کوئی توقف نہ ہو صرف اس قدر تو قف ہو گی کہ جب تک کافی سرمایہ اس حصہ کے لئے 66 جمع ہو جائے۔“ آپ نے اس اعلان میں خریداروں کو توقف کے ایام میں تردد نہ کرنے کی بھی ہدایت کر دی تھی مگر یہ قدرتی بات ہے کہ تمام لوگ اس روح اور فطرت کے نہیں ہوتے۔اس توقف نے بعض جلد بازوں میں ایک شور بھی پیدا کر دیا لیکن حضرت اس شور وشغب سے گھبرائے نہیں۔