حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 373
حیات احمد ۳۷۳ جلد دوم حصہ سوم کی مسجد میں مین العصر والمغرب اپنی دختر نیک اختر کا حضرت صاحب سے گیارہ سو روپیہ مہر کے بدلے نکاح کر دیا۔نکاح کا خطبہ مولوی نذیر حسین صاحب محدث دہلوی نے پڑھا وہ ڈولی میں بیٹھ کر تشریف لائے تھے کیونکہ ضعف اور بڑھاپے کے باعث چل پھر نہیں سکتے تھے عین موقعہ پر میں نے اپنے اور اپنی بیوی کے رشتہ داروں کو بلایا۔اس لئے وہ کچھ کر نہ سکے بعض نے تو گالیاں بھی دیں اور بعض دانت پیس کر رہ گئے۔جانئین سے کوئی تکلف عمل میں نہیں آیا رسم و رسوم کا نام تک نہ تھا۔ہر ایک کام سیدھا سادہ ہوا۔میں نے جہیز کو صندوق میں بند کر کے کنجی مرزا صاحب کو دے دی اور لڑکی کو چپ چپاتے رخصت کر دیا بر خلاف اس کے ہمارے کنبہ میں لاکھ لاکھ مہر بندھا کرتا ہے اور دنیا کی ساری رسمیں جو خلاف شرع ہیں ادا کی جاتی ہیں۔الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى ذالك کہ مروجہ بد رسوم میں سے ہمارے ہاں کوئی بھی نہیں ہوئی یہ قصہ خصوصاً اس واسطے لکھا ہے که اکثر احمدی احباب نکاح کا حال پوچھا کرتے ہیں کہ تمہارے ہاں حضرت مرزا صاحب کا تعلق کیونکر ہوا۔بار بار متفرق اصحاب کے آگے دوہرانے کی اب ضرورت نہیں لوگ اس تحریر کو پڑھ لیں گے اس وقت میر محمد اسمعیل کی عمر تین چار سال کی تھی یہ بھی میرے میں ایک تبدیلی تھی اس زمانہ کا ایک عظیم بیٹا تھا جس کے سبب سے میں ایک بڑا اور تاریخی آدمی بن گیا چندا اپنی برادری کے دنیا دار آدمیوں کو چھوڑا خدا تعالیٰ نے مجھے لاکھوں بچے محب اور ہزاروں مومنین اور صالحین عطا فرمائے جو مجھے باپ سمجھتے ہیں۔اور آئندہ جو سلسلہ احمدیہ میں داخل ہوں گے وہ حضرت مرزا صاحب کے ساتھ مجھے بھی درود بھیجا کریں گے۔ذَالِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَّشَاءُ وَاللهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیمِ۔یہ باتیں عاجز نے بطور فخر و تکبر کے نہیں لکھیں بلکہ بطور تحدیث نعمت تحریر کی ہیں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَأَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثُ لِ اس بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت حضرت میر صاحب ملتان میں متعین تھے۔اور وہ فرلو لے کر دہلی آئے حضرت نانی اماں اور حضرت میر صاحب کے بیانات سے معلوم ہوتا ہے کہ اولاً دونوں کے خیالات میں مختلف موانع تھے چنانچہ :۔ل الصحي : ۱۲