حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 372 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 372

حیات احمد حضرت میر ناصر نواب رضی اللہ عنہ کا بقیہ بیان جلد دوم حصہ سوم حضرت میر ناصر نواب صاحب رضی اللہ عنہ نے اس سلسلہ میں مزید جو کچھ فرمایا اسے میں نے حیات ناصر میں درج کر دیا تھا اور اسی کا اقتباس خود حضرت میر صاحب ہی کے الفاظ میں درج کرتا ہوں۔پہلے تو میں نے کچھ تامل کیا کیونکہ مرزا صاحب کی عمر زیادہ تھی اور بیوی بچے موجود تھے اور ہماری قوم کے بھی نہ تھے۔مگر پھر حضرت مرزا صاحب کی نیکی اور نیک مزاجی پر نظر کر کے جس کا میں دل سے خواہاں تھا میں نے اپنے دل میں مقرر کر لیا کہ اسی نیک مرد سے میں اپنی دختر نیک اختر کا رشتہ کر دوں۔نیز مجھے دتی کے لوگ اور وہاں کی عادات و اطوار بالکل ناپسند تھے اور وہاں کے رسم و رواج سے سخت بیزار تھا اس لئے ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے دعا مانگا کرتا تھا کہ میرا مربی ومحسن مجھے کوئی نیک اور صالح داماد عطا فرما دے یہ دعا میں نے بار بار اللہ تعالیٰ کی جناب میں کی آخر قبول ہوئی اور مجھے ایسا بزرگ صالح متقی خدا کا مسیح و مہدی نبی اللہ اور رسول اللہ خاتم الخلفاء اللہ تعالیٰ نے داماد عطا فرمایا جس پر لوگ رشک کریں۔تو بجا ہے اور اگر میں اس پر فخر کروں تو کچھ بے جا نہ ہوگا۔اس نکاح سے چند سال پیشتر میرے گھر میں پانچ بچوں کے مرنے کے بعد ایک لڑکا پیدا ہو کر زندہ رہا جس کا نام محمد اسمعیل رکھا۔جواب میر محمد اسمعیل صاحب اسسٹنٹ سرجن ہیں۔میں ضلع لاہور سے تبدیل ہو کر پٹیالہ و مالیر کوٹلہ کی طرف گیا وہاں سے چند ماہ کے بعد نقشہ نویس ہو کر ملتان میں پہنچا۔اب زمانہ نے بہت رنگ بدلے۔اور میرے حال میں کئی تبدلیاں واقع ہوئیں۔آخر میں ملتان سے فرلورخصت لے کر دتی پہنچا۔اور اپنی فرمانبردار بیوی کولڑ کی کے نکاح کے بارہ میں بہت سمجھا بجھا کر راضی کیا اور سوائے اپنی رفیق بیوی کے اور کسی کو اطلاع نہیں دی اس واسطے ایسا نہ ہو کنبہ میں شور پڑ جاوے اور میرا کیا کرایا بگڑ جاوے اور میری والدہ صاحبہ و دیگر اقرباء مانع ہوں۔انجام کار ۱۸۸۵ء میں میں نے حضرت مرزا صاحب کو چپکے سے بلا بھیجا۔اور خواجہ میر دردصاحب آہ! آج وہ مقبرہ بہشتی میں آرام کرتے ہیں۔عرفانی الکبیر