حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 374 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 374

حیات احمد ۳۷۴ حضرت میر صاحب کے دل میں تین روکیں تھیں :۔عمر کا فرق پہلی شادی اور اولاد۔قوم کا فرق جلد دوم حصہ سوم نانی اماں کو پہلی روک یہ تھی کہ اول تو ان کا دل نہیں مانتا تھا۔دوسرے عمر کا بہت فرق تھا۔تیسرے دہلی والوں میں پنجابیوں کے خلاف سخت تعصب تھا۔ان موانع کے باوجود ایک چیز تھی جو اندر ہی اندر کام کر رہی تھی۔اور وہ حضرت میر صاحب کا یہ جذبہ تھا۔کہ ان کا داماد نیک اور صالح ہو۔یہ ایک اعلیٰ مقصد تھا جس کے پیمانہ پر کوئی پورا نہ اتر تا تھا درخواستیں کرنے والے لوگ اچھے متمول تھے مگر نیک اور صالح نہ تھے۔حضرت میر صاحب کو دہلی کے لوگوں کی عادات اور اطوار سے سخت نفرت تھی اس لئے وہ تحریر فرماتے ہیں کہ میں ہمیشہ خدا تعالیٰ سے دعا مانگا کرتا تھا کہ میرا مربی ومحسن مجھے کوئی نیک اور صالح داماد عطا فرمائے یہ دعا میں نے بار بار اللہ تعالیٰ کی جناب میں کی اور آخر قبول ہوئی۔آنحضرت صلی اللہ علی و علیہ وسلم نے بیوی کے متعلق فرمایا کہ لوگ مال اور حسن کے لئے شادی کرتے ہیں مگر آپ نے فرما یا خُذْ بِذَاتِ الدِّينِ تم دیندار عورت سے شادی کرو۔بالکل اسی اصل کے ماتحت حضرت میر صاحب اپنی صاحبزادی کے لئے دیندار خاوند کے لئے خدا تعالیٰ کے حضور گڑ گڑاتے تھے اور خدا تعالیٰ سے رشتہ مانگا کرتے تھے سو ان دعاؤں کے صدقہ میں اللہ تعالیٰ نے حضرت میر صاحب کو وہ کچھ دے دیا جو انہوں نے مانگا۔یہ ایک عجیب بات ہے اس وقت روئے زمین پر ایک ہی انسان تھا جو نیکیوں کا سردار اور راستبازوں کا راستباز تھا یعنی حضرت مسیح موعود اور اس وقت دنیا میں ایک ہی شخص تھا جو خدا کے