حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 362 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 362

حیات احمد ۳۶۲ جلد دوم حصہ سوم (نوٹ) حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام نے ذکر کیا اور میں اس کتاب کے صفحہ ۸۹ میں درج کر آیا ہوں اس کی تفصیل تاریخی دستاویزات کی بناء پر عزیز مکرم شیخ محمود احمد عرفانی رضی اللہ عنہ میرے پر اکبر نے اپنی کتاب سیرت اُم المؤمنین کے حصہ اول میں کی ہے اور اس میں بتایا کہ حضرت میر ناصر نواب رضی اللہ عنہ کے خاندان کے قریب زمانہ کے گرامی قدر بزرگ امیر الامراء صمصام الدولہ نواب خان دوران خان بہادر میر بخشی منصور جنگ کمانڈر انچیف افواج مغلیہ تھے یہ تو آبائی سلسلہ ہے اور نہیالی سلسلہ میں بھی حضرت خواجہ میر درد رحمتہ اللہ علیہ کا خاندان ہندوستان بھر میں ممتاز ہے یہ خاندان ابتداء مغلیہ حکومت میں اعلیٰ درجہ کے عہدوں پر ممتاز تھا اور نظم و نسق کے اعلیٰ اختیارات ان کے ہاتھ میں تھے ان کے اس خاندان کے جد اعلیٰ روشن الدوله رستم جنگ خواجہ سید محمد ظفر اللہ خاں بہادر یار وفادار ہفت ہزاری تھے لاہور کی سنہری مسجد اسی بزرگ کی بنوائی ہوئی ہے۔دہلی کی سنہری مسجد جو تاریخ ہندوستان میں نادرشاہ کے حملہ کے ساتھ ایک عظیم الشان واقعہ کو یاد دلاتی ہے اسی درویش صفت ہفت ہزاری نے بنوائی تھی۔آگے چل کر یہ خاندان جو پہلے بھی تاج ولایت کا علمبر دار تھا اسی خرقہ ولا یت کو پہن کر حضرت خواجہ میر درد رضی اللہ عنہ کے خاندانی کام سے ممتاز ہوا۔دوسری طرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا خاندان بھی ایک شاہی خاندان ہے اور جس زمانہ میں حضرت اُم المؤمنین کا خاندان مغلیہ حکومت میں ایک امتیازی شان رکھتا تھا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خاندان کو بھی ہر قسم کے امتیازات اور اعزات حاصل تھے چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بزرگ اگر چہ شاہی خاندان کے لوگ تھے۔ہندوستان کے ورود سے قبل بھی وہ صاحب حشمت تھے۔مگر اس کے باوجود انہوں نے درویشی کو اپنا شعار رکھا۔حضرت میرزا ہادی بیگ مورث اعلیٰ نے سلطنت کے جھمیلوں سے دور پنجاب کے ایک جنگل میں ایک بستی بسائی۔اس کا نام اسلام پور رکھا اس میں حفاظ اور علماء کا ایک جمگھٹا رہتا تھا۔قال اللہ اور قال الرسول کے ہر وقت چرچے رہتے تھے۔ملاحظہ ہو ( حیات النبی حصہ اول) حیات النبی یعنی حیات احمد حصّہ اوّل ( ناشر )