حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 363
حیات احمد ۳۶۳ جلد دوم حصہ سوم ی تھی ان کی امیری میں درویشی۔اور یہی حال حضرت اُم المؤمنین کے بزرگوں کا رہا کہ جب اللہ تعالیٰ نے ان کو دنیا کے مناصب سے حصہ وافر دیا تو اس وقت بھی یاد الہی ان کے قلب سے محو نہ ہوئی۔جس طرح نواب ظفر خاں روشن الدولہ رستم جنگ ہفت ہزاری شہنشاہ ہند فرخ سیر کے زمانہ میں ہوئے ہیں۔یہ حضرت اُم المؤمنین کے خاندان کے مورثان اعلیٰ میں سے ایک تھے۔اور اسی زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مورثان اعلیٰ میں عضد الدولہ میرزا فیض محمد خاں صاحب ہفت ہزاری تھے۔نواب ظفر خاں نے بادشاہ کی مدد کے لئے تلوار اٹھائی۔مگر عضد الدولہ میرزا فیض محمد خاں نے دو کام کئے ایک تو یہ کہ اس خانہ جنگی سے فائدہ اٹھا کر اپنی ایک خود مختار سلطنت کی بنیاد رکھنے کی کوشش نہیں کی باوجود اس کے کہ ۸۴ گاؤں پر آپ کی حکومت تھی۔علاقہ پر آپ کا اثر تھا آپ کے پاس با قاعدہ فوج تھی اور مال و دولت سے حصہ وافر تھا۔الغرض وہ تمام چیزیں موجود تھیں جن کی وجہ سے کوئی صاحب اثر خاندان طوائف الملو کی کے وقت اپنی سلطنت و حکومت قائم کرے مگر اس خاندان کی شرافت و نجابت اور بزرگی نے بادشاہانِ وقت سے غداری نہ کرنی چاہی اور نہ کی۔دوسرے۔عضد الدولہ میرزا فیض محمد خاں صاحب ہفت ہزاری ، جو سلک امراء میں اول درجہ کے امیر تھے انہوں نے فرخ سیر شہنشاہ ہند کے حکم کے ماتحت لشکر فیروزی میں حاضر ہو کر مناسب خدمات سرانجام دیں۔جیسے فرمان شاہی سے ظاہر ہوتا ہے۔ترجمه : منشور محمد فرخ سیر غازی شنہشاہ ہندوستان۔محمد فرخ سیر بادشاہ غازی حاجی علیخاں مدوسم بزرگوں و ہمسران میں برگزیدہ میرزا فیض محمد خاں شاہی دلجوئی یافتہ ہو کر جان لیں کہ اس وقت حضور فیض گنجور عرش آشیانی ظلّ سُبْحَائِی آپ کی وفا کیشی اور خیر اندیشی اور جان شاری